خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد 15 225 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء دوسرا اس میں مومنوں کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اس دنیا میں تمہیں پتا ہے کہ تم سے بدلے قبول کئے جاتے ہیں صدقے قبول کئے جاتے ہیں نیکی کے کاموں پر خرچ کرتے ہو وہ تمہارے گناہوں کی بخشش کا موجب بن جاتے ہیں تو اب جبکہ وقت ہے تو تم کرو۔کیوں کہ تمہارا آج کا خرچ تمہاری آج کی مالی قربانی قیامت کے دن وہ بدلہ بنے گی جو دوسروں کے کام نہیں آسکتا مگر تمہارے کام آئے گا۔أُولَيكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ ہلاکت میں ڈال دیئے جائیں گے۔بِمَا كَسَبُوا اس وجہ سے جو انہوں نے کمایا لَهُم شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (الانعام: 71) ان کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے۔اب پیاس بجھانے کے لئے جو سراب کا نقشہ ہے وہ اور یہ اس پہلو سے ملتے جلتے ہیں کہ کھولتا پانی بھی کسی کی پیاس نہیں بجھا سکتا بلکہ اس کی پیاس کو اور بھڑکا دیتا ہے، اس کے لئے اور بھی درد کا موجب بن جاتا ہے۔جس طرح سمندر کا پانی کسی کی پیاس کو بجھا نہیں سکتا بلکہ اس کو اور بھی کھولا دیتا ہے فرما یا شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَ عَذَاب الیم پیاس بجھانے کی بجائے ان کے لئے یہ چیز درد ناک عذاب کا موجب بنے گی۔بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ اس وجہ سے کہ وہ جو دنیا میں کام کیا کرتے تھے بسبب اس کے جو وہ انکار کیا کرتے تھے۔اب ایک جگہ جب ہمیں ہدایت فرمائی ہے کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو، ان کی مجلسوں میں نہ بیٹھو کیوں کہ یہ ظلماتی لوگ ہیں، یہ تمہیں بھی روشنی سے ظلمت کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے تو پیچھے پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔کن لوگوں میں گزارہ کرنا ہے اور کن لوگوں میں اپنا دل بہر حال لگانا ہے اس کے سوا چارہ کوئی نہیں ہے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاصْبِرُ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدُوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَكَ عَنْهُمْ (الكهف: 29) - وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم ان لوگوں کے ساتھ اپنا دل لگالے اور اس پر صبر کر یعنی اپنی تمام کائنات کو ان لوگوں کی حد تک سمیٹ لے یعنی دلچسپیوں کی ساری کائنات کو جو لوگ خدا کو پکارتے ہیں صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی يُرِيدُونَ وَجْهَهُ اور اسی کی رضا چاہتے ہیں، اسی کا چہرہ مانگتے ہیں۔وَجْهَهُ سے مراد ہے چہرہ یعنی توجہ اور رضا دونوں باتوں کے لئے وجہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔