خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 224
خطبات طاہر جلد 15 224 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء ایسی نہیں ہیں جن میں خدا کے نور کی اصلی شان جگہ جگہ جھلکتی ہوئی دکھائی نہ دے۔پس اس پہلو سے فرمایا کہ اگر تم محض تمسخر کی خاطر بد تمیزی کے لئے دوسروں کے مذاہب پر زبا نہیں کھولو گے جیسا کہ بعض لوگ تمہارے مذہب پر زبانیں دراز کرتے ہیں تو انجام کیا ہوگا ؟ جو ان کا انجام ہے وہی تمہارا بھی ہوگا۔تم پھر خود اپنے دین کے معاملے میں بھی گستاخ ہو جاؤ گے۔بدتمیز اور بے ادب بن جاؤ گے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے، ایسی گہری نفسیاتی حقیقت ہے کہ اگر اس پر آپ غور کریں تو انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔کوئی بھی زبانیں کھولنے والے ٹولے جو آپ کے ذہن میں آئیں یا فرد کوئی آپ کے ذہن میں ہو اس کی تاریخ کا جائزہ لیں کس طرح اس کی زبان آغاز میں پہلے دوسروں پر کھلتی تھی پھر رفتہ رفتہ قریب آنے لگی خود اپنے دین کے متعلق وہ بد تمیز ہوا اور پھر وہ مجلسیں بن گئیں جن کا ذکر ہے کہ وہ اکٹھے بیٹھتے ہیں لہو و لعب میں مشغول ہوتے ہیں پھر اپنے دین پر بدتمیزی کی باتیں شروع کر دیں یہاں تک کہ خود اپنے مفاد کے خلاف پھر ان کی زبانیں چلنے لگتی ہیں۔چنانچہ ذَكْرُ بِةٍ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ یہ بہت ہی اہم مضمون ہے۔ذَكْرُ بِہ اس کو خوب کھول کھول کر بیان کر۔اس کو بار بار نصیحت کے طور پر بیان کر مبادا کوئی جان جو کچھ اس نے کمایا ہے اس کے ذریعے اور اس کے باوجود ہلاک نہ ہو جائے۔وَاِنْ تَعْدِلُ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا کہ ایسی جان جو تمسخر اور مذاق کر کے دین کے معاملوں کو کھیل تماشہ بنا کر ہر اس نتیجے سے محروم رہ جاتی ہے جو اس کی کمائی کا نتیجہ ہے اور سوائے ہلاکت کے اس کی دنیا کی محنت اسے کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچاتی اس کے متعلق فرمایا کہ پھر وہ وقت آ جائے گا کہ اگر وہ ہر قسم کا بدلہ جو بھی دے سکتی ہے اپنی جان کو عذاب سے بچانے کے لئے وہ بھی دے دے گی تو بھی لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔اس میں دوروکیں ہیں اول تو بدلہ دینے کی توفیق ہی کوئی نہیں کیونکہ قیامت کے دن تو انسان بے مالک ہو کر جائے گا۔کوئی بھی اس کی ملکیت نہیں ہو گی۔وہ بدلہ کس چیز سے دے گا۔تو یہ ایک نظریاتی دلیل ہوا کرتی ہے جس کا معنی صرف یہ ہے امکانی دلیل ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ واقعہ کچھ لوگ یا کچھ جانیں قیامت کے دن سونوں کے پہاڑ لے کر خدا کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے کہ یہ قبول کرلے اور ہماری جان چھٹ جائے۔فرمایا اگر ایسا ہو کہ دنیا جہاں کی دولتیں بھی پیش کر دیں تب بھی ایسے لوگوں کا کوئی بدلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔وہ جان کسی بدلے کو دے کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔