خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 17
خطبات طاہر جلد 15 17 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء بالغان الگ ہے دفتر اطفال الگ ہے۔ربوہ نمبر ایک ہے، کراچی نمبر دو ہے اور لاہور نمبر تین ہے۔جہاں تک اضلاع کا تعلق ہے اسلام آباد پھر سیالکوٹ پھر راولپنڈی پھر فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، شیخو پورہ، سرگودھا، عمرکوٹ، کوئٹہ یہ دس اضلاع ہیں جن کو اسی ترتیب سے خدا تعالیٰ نے زیادہ خدمت کی توفیق بخشی ہے۔جہاں تک اطفال کا تعلق ہے وہاں بھی ربوہ نمبر ایک ہے اور کراچی کی بجائے لاہور نے دوسری پوزشن سنبھال لی ہے۔چنانچہ ربوہ اول، لاہور دوم اور کراچی سوم ہے۔جہاں تک اضلاع کا تعلق ہے گوجرانوالہ بہت پیچھے رہ جانے والی جماعتوں میں سے تھا جو آگے بڑھ کر اس میدان میں اول آگیا ہے اور راولپنڈی اس کے بعد، پھر سیالکوٹ، پھر شیخو پورہ، پھر فیصل آباد، اسلام آباد، اوکاڑہ ،سرگودھا، نارووال اور آخر پر میر پور خاص۔یہ ہے خلاصہ اس سال کی مالی قربانیوں کا اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ آئندہ بھی اسی ذوق و شوق کے ساتھ آپ وقف جدید کے میدان میں ہر پہلو سے پہلے سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرتے رہیں گے۔جماعتوں کو میں پھر دوبارہ یاد دہانی کرواتا ہوں کہ نو مبائعین کو ضرور شامل کریں خواہ معمولی رقم لے کر بھی ان کو شامل کریں۔ایک دفعہ جس کو خدا کی راہ میں محبت سے کچھ پیش کرنے کی توفیق مل جائے پھر وہ چسکا پڑ جاتا ہے پھر وہ زندگی بھر اس کا وہ چسکا اتر تا نہیں ہے۔اس لئے بڑے بڑے بھاری بھاری چندے وصول نہ کریں شروع میں جتنی توفیق ہے اتنا وصول کریں تا کہ وہ جو محبت کا مضمون ہے وہ قائم رہے چیٹی کا مضمون نہ آجائے۔ایک دفعہ آپ نے نئے آنے والوں پر توفیق سے بڑھ کر بوجھ ڈال دیا اور اصرار کیا کہ تم سولہواں حصہ ضرور دو اور فلاں میں اتنا دو اور فلاں چندے میں اتنا دوتو بعید نہیں کہ وہ چونکہ کمزور ہیں ان کی کمریں ٹوٹ جائیں اور ایمان میں بڑھنے کی بجائے وہ پہلے مقام سے بھی نیچے گر جائیں اس لئے حکمت کے تقاضے پورے کریں۔خدا نے جو انفاق فی سبیل اللہ کی روح بیان فرمائی ہے کہ وہ تعلق باللہ ہونی چاہئے اور انسان اپنے شوق سے محبت کے طور پر پیش کرے اس رو سے جتنا کوئی توفیق پاتا ہے اس توفیق کو مدنظر رکھ کر اس سے لیں۔لیکن کچھ نہ کچھ کی تو فیق تو ہر ایک رکھتا ہے اگر ایک معمولی رقم بھی وہ دے دے ، خوشی سے دیدے تو وہ بھی قبول کر لیں اور تعداد بڑھانے کی کوشش کریں۔