خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 223

خطبات طاہر جلد 15 223 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء نی ہے۔شفیع تو دوسرے کی شفاعت کرتا ہے، دوسرے کے پاس شفاعت کرتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ شفیع المذنبین ہیں، وہ گنہ گاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں۔مگر قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ کوئی بھی اپنی ذات میں شفاعت کا حق نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ اللہ اسے شفاعت کا حق عطا کرے۔پس یہاں شفیع سے مراد یہ ہے کہ شفاعت بھی خدا کی مرضی کے بغیر کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی۔وہی اصل شفیع ہے یعنی شفاعت کو سننے والا اور شفاعت کو قبول کرنے والا۔پس ایسا شخص جو دنیا کی زندگی کے پیچھے لگ جائے اس کا سفر آغاز میں بظاہر معمولی دلچسپیوں کا سفر ہوتا ہے، ایسی دلچسپیوں کا سفر جو انسانی فطرت سے تعلق رکھتی ہیں اور مذہب ان میں دخل نہیں دیتا اور مذہب انہیں جائز قرار دیتا ہے لیکن جب وہ آگے بڑھتے ہیں تو یہ سفر پھر اندھیروں کے بعد دوسرے اندھیروں میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔اب دیکھ لیں پہلی قسم کا اندھیرا یہ ہے کہ دوسرے کے دین کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں اور اس ضمن میں مسلمانوں کے لئے بہت بڑی تنبیہ ہے۔جب دوسرے کے دین کی بات بھی کرتے ہیں تو یہ احترام ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ابتداء وہ بھی خدا کا کلام تھا اور پوری وضاحت کے ساتھ جو خدا کا کلام ہے اس کو الگ کر کے اگر تنقید کا نشانہ بنانا ہے تو دوسرے حصے کو جو انسانوں نے داخل کر دیا اس پر بے شک تنقید کرومگر کلام اللہ پر تنقید کے قریب تک نہ پھٹکو اور کوشش کرو کہ دوسرے ادیان کی جو غلط تشریحات ان ادیان کے پیروکار خود کرتے ہیں وہ بے چارے خود اندھیروں میں مبتلا ہیں ان پران کے اپنے مذہب کو روشن کرو اور بتاؤ کہ اس تمہارے مذہب میں کیا کیا خوبیاں ہیں تم غلط سمجھ رہے ہو یہ توحید کا علم بردار ہے۔چنانچہ اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ویدوں کی بھی تعریف فرمائی جن میں سے اکثریت انسان کی خرد برد کے نتیجے میں بالکل محفوظ نہیں رہی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیغام صلح میں ویدوں کے متعلق بہت ہی عمدہ خیالات کا اظہار فرمایا ان معنوں میں کہ آغاز میں خدا ہی کی طرف سے یہ نازل ہوئی تھیں، بندوں نے ان میں دخل اندازی کر کے ان کا حلیہ بگاڑ دیا مگر آج بھی اگر آپ غور کریں تو اللہ تعالیٰ کے کلام کا نوران میں دکھائی دیتا ہے اور خدا کا نور کلیہ بجھ نہیں سکتا، کلیۂ مٹایا نہیں جا سکتا۔انسان کے اندھیرے وقتی طور پر اس پر پر دے ڈالتے ہیں مگر ایک انسان فراست کی نظر سے اگر اس نور کی تلاش کرے تو کوئی بھی الہی کتب