خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد 15 222 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء کوئی انتقامی کارروائی نہیں اگر یہ لوگ اپنے دین کو بھی اسی طرح لیں اور لعب اور لہو سے کام لیں اور دین کو کھیل کو ہی سمجھیں۔ذَرِ الَّذِینَ ایسے لوگوں کو چھوڑ دو۔دیکھیں کیسی کامل تعلیم ہے قرآن کریم کی۔ہر معاملے کو وضاحت سے پیش کر رہی ہے۔اب اندھیروں کا مضمون بھی اتنی روشنی سے دکھاتی ہے کہ ہر اندھیرا اپنے اپنے مقام پر ٹھہرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اس کی حد بندی کرتی ہے مختلف قسم کے اندھیروں کی تفصیل بیان فرماتی ہے کچھ بھی انسان پر اندھیرا نہیں رہنے دیتی۔وَغَرَّتُهُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْیا اور ان کو اپنے دین سے مذاق کرنا اور دین کو تخفیف سے دیکھنا، اپنے دین کا تخفیف سے ذکر کرنا اس مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔غَرَّتُهُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا کہ دنیا کی زندگی ان کو دھو کے میں مبتلا کرتی ہے۔پس وہ غرور جس کا ذکر پہلے گزرا ہے کہ انسان پیروی تو کرتا ہے پانی دیکھ کرلیکن دھو کے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا پانی کی بجائے وہاں سراب ملتا ہے۔فرمایا یہی لوگ ہیں جو اس مرتبے کو پھر پہنچتے ہیں۔ان کو اپنے دین سے مذاق بھی راس نہیں آتا اور رفتہ رفتہ ان کو دنیا کی زندگی دھو کے میں مبتلا کر دیتی ہے یعنی دین سے جہاں حقیقت میں انسانی روح کی سیرابی اور شادابی کا سامان ہے اس سے نظریں پھر جاتی ہیں وہاں ان کو سراب دکھائی دیتا ہے اور جہاں سراب ہے الْحَيَوةِ الدُّنْيَا میں ، وہاں وہ پانی دیکھتے ہیں اور اسی کا نام غرور ہے، اس کو دھوکہ کہتے ہیں۔فرمایا آن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی جان جو کچھ بھی اس نے کمایا ہے اس کے ذریعہ ہلاکت میں مبتلا ہو جائے ، تباہ و برباد ہو جائے اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے آن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ یہ بہت ہی اہم بات ہے ایسے لوگ پھر دنیا میں جو بھی کماتے ہیں نیکیاں بھی دکھائی دیں ان کی ، تو وہ فائدہ نہیں پہنچاتیں کیوں ، غرض دنیا ہے اور دنیا کا پلڑا دین پر بھاری ہو جاتا ہے۔رفتہ رفتہ دین سرکنے لگتا ہے اور دنیا غالب آتی جاتی ہے۔پھر ان کا جو کچھ بھی کمایا ہے وہ ان کے کچھ کام نہیں آتا سوائے اس کے کہ ان کو ہلاک کر دے۔لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِیع ہر ایسی جان کو یہ تنبیہ ہے کہ اللہ کے سوا اس کا درحقیقت کوئی بھی ولی یا شفیع نہیں۔کوئی نہیں ہے جو اس کے ساتھ دوستی کرے اور اس کی دوستی اس کو فائدہ پہنچائے۔کوئی نہیں جس کی شفاعت اس کے حق میں کام آ جائے مگر اللہ ہی شفیع ہے۔یہاں اللہ کے شفیع ہونے کا کیا