خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد 15 221 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء داخل ہو جاتے ہیں لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا يْنَكُمْ هُزُوًا وَ لَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الكتب ایسے لوگ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو کتاب دی گئی ہے۔مِن قَبْلِكُمْ تم سے پہلے وَالْكُفَّار اور دوسرے بھی ہیں ان کو اولیاء نہ بناؤ۔ان کو اپنا دوست نہ ٹھہراؤ۔وَاتَّقُوا اللهَ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ اگر تم مومن ہو تو پھر اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بچ کے رہو۔ان کی نشانی کیا ہے۔کون لوگ ہیں جو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔جب ایسے لوگ جو عبادت کو فوقیت دیتے اور ترجیح دیتے ہیں، دنیا کے مشاغل چھوڑ کر عبادت کے لئے اٹھتے ہیں تو اس وقت اس سے برداشت نہیں ہوتا ان کی باتوں سے خود ان کے سینے کا گند فوراً اچھل پڑتا ہے۔وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلوةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَ لَعِبًا جب تم خود بھی نماز کے لئے اٹھتے ہو اور لوگوں کو بھی بلاتے ہو، کہتے ہو اٹھو جی اب نماز کا وقت آ گیا چلو چلیں تو کچھ ایسے ہیں جو اسی مجلس میں بیٹھے رہیں گے اور اس وقت مذاق کے رنگ میں بات کریں گے کہ یہ بڑا عبادت گزار آ گیا ہے، اس کو زیادہ خدا کو راضی کرنے کا شوق ہے۔یہ چھپے ہوئے کا فر ہیں اگر ظاہر نہ بھی ہوں اور اس کے بعد تمہارے لئے جائز نہیں کہ ان کو اولیاء بناؤ اور ان کو ہم نشین بناؤ۔ان کی مجلسوں میں بیٹھنا ترک کر دو اور ان سے تعلقات کاٹ لو ورنہ دوسری جگہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ بالآ خرتم انہی جیسے ہو جاؤ گے اور پھر رفتہ رفتہ تم میں اور ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔دوسری آیت جو اس مضمون پر ایک اور پہلو سے روشنی ڈالتی ہے فرماتی ہے۔وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهُوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا (الانعام: 71)۔یہاں اس آیت میں اور اس آیت میں فرق یہ ہے کہ یہاں یہ فرمایا گیا تھا کہ تمہارے دین کو وہ مذاق بناتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بیماریاں آگے بڑھنے والی ہیں۔یہ ایک جگہ رکا نہیں کرتیں۔جو لوگ تمہارے دین کو تماشہ بناتے ہیں اور اس پر تمسخر سے کام لیتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ پھر اپنے دین کو بھی کھیل تماشہ ہی بنا لیتے ہیں اور خود اپنے دین کی بھی کوئی عزت ان کے دلوں میں باقی نہیں رہتی ، کوئی احترام باقی نہیں رہتا۔فرمایا وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِینَهُم محض اس وجہ سے تم نے ان سے بے تعلقی نہیں کرنی کہ تمہارے دین کو نا جائز تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور تماشے کے طور پر اس کو Treat کرتے ہیں اس سے معاملہ کرتے ہیں۔فرمایادین کا معاملہ تو خدا سے تعلق رکھتا ہے اس لئے