خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد 15 208 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء یہ ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی دکھائی دے دیتا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی اندھیرے ہیں جو نفس کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں اور تہہ بہ تہہ اندھیرے ہیں جن کی تقسیم اگر کی جائے تو ایک قسم یہ ہے لعب اور لہو کی۔تو جہاں قرآن کریم نے اندھیرے بیان فرمائے وہاں ایسے بھی اندھیرے بیان فرمائے جو تمہیں روشنی دکھائی دیتے ہیں بظاہر ان میں کوئی بھی اندھیرے کا پہلو دکھائی نہیں دیتا۔بچے بھی کھیلتے ہیں بڑے بھی کھیلتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں آنکھ کوئی اندھیر انہیں دیکھتی۔لیکن قرآن توجہ دلا رہا ہے کہ جہاں بھی تم نے توازن کھو دیا وہاں یہی طبعی حالتیں اندھیروں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں اس لئے ان اندھیروں سے بچو جو تمہیں اندھیرے دکھائی دیں گے۔ایک بچہ کھیلتا بھی ہے پڑھتا بھی ہے اس کی اس حالت کو اندھیر انہیں کہا جا سکتا۔اس کا کھیلنا اس کی پڑھائی کو طاقت بخشتا ہے اور اس کی صحت کو بحال رکھتا ہے اور بسا اوقات وہ دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے اور زیادہ تسکین پاتا ہے۔ایک بچہ ہے جو پڑھائی کی قربانی دے کر کھیل میں وقت ضائع کر دیتا ہے۔ایک بڑا ہے جو عیش وعشرت کی خاطر اپنی زندگی کے فرائض سے منہ پھیر لیتا ہے۔اب ان دونوں قسموں کی مثالیں دراصل اندھیروں میں پلنے والوں کی سی ہیں مگر اگر دنیا کی لذتیں اس حد تک رکھی جائیں جس حد تک فرائض پر اثر انداز نہ ہوں تو اس صورت میں اس بچے کی طرح جو کھیلتا بھی ہے اور پڑھتا بھی ہے ایک انسان جائز حد تک اپنی خواہشات کو بھی پورا کر لے جو طبعی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فرمان کی حدود کو نہ پھلانگے تو یہی دو چیزیں جو ایک جگہ ہلاکت کا موجب بنتی ہیں ایک جگہ مغفرت اور رضا کا موجب بن جاتی ہیں۔متنا سب کھیل، متناسب پڑھائی اور دونوں کے درمیان توازن رکھنا دنیا کی نعمتیں بھی عطا کرتا ہے اور دین کی نعمتیں بھی عطا کرتا ہے اگر انسان دین دار ہو، تو کھیل کی کامیابیاں بھی بخشتا ہے اور علم کی کامیابیاں بھی بخشتا ہے۔تو مغفرت اور رضا کا یہ تعلق ہے ان باتوں سے کہ لعب تو وہی رہے گی لہو بھی وہی ہو گی لیکن کسی حد تک اگر خدا کی رضا کے تابع تم لعب سے بھی تعلق رکھو گے اور لہو سے بھی تعلق رکھو گے تو وہ بدی والی لہو نہیں رہے گی ، وہ بدی والی لعب نہیں رہے گی۔چنانچہ قرآن کریم نے انسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ، ہر خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک جائز طریق بھی بیان