خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 206
خطبات طاہر جلد 15 206 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء ہے تب ممکن ہو گا۔پس یہ وہ جگہ ہے جہاں اس واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے لہو ولعب یا لعب اور لہو، جب ساری سوسائٹی لعب اور لہو کی مریض بن جائے اس میں تو یہ چیزیں از خود ہوں گی کوئی روک سکتا ہی نہیں ہے۔اب لعب اور لہو جتنا آگے بڑھے گی اتنا ہی کئی قسم کے بھیانک جرم از خودان کے پیٹ سے پھوٹیں گے۔بعض جگہ محض لعب ہے جو پاگل پن پیدا کر دیتی ہے، بعض جگہ لہو ہے جو پاگل پیدا کرتی ہے بعض جگہ دونوں مل کر پھر ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کھیلتی ہیں اور عجیب وغریب نتیجے نکالتی ہیں۔اب کرکٹ کا میچ ہوا ہے اور اس کا ایک بخار چڑھا ہوا ہے قوموں کو اور حیرت کی بات ہے لعب ہے صرف لہو نہیں ہے۔وہ اکیلی لعب ، کھیل اور وہ لوگ جن کا کوئی دور سے تعلق ہی نہیں ہے وہ دوسرے ملکوں میں بیٹھے خود کشیاں کر رہے ہیں کہ ٹیم ہارگئی۔جنہوں نے کبھی کرکٹ کے بلے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ان کا حال یہ ہے کہ وہ Criticize کر رہے ہیں کہ کیپٹن نے یہ غلطی کی۔آئیں سہی ہم اس کا سر پھوڑیں گے۔اب یہ کھیل ہے کہ پاگل پن ہے۔یہ وہی پاگل پن ہے جس کے اندھیرے کی طرف ذکر فرمایا ہے کہ لعب ولہو کو اگر تم نے کھلی چھٹی دے دی تو جان لو کہ متاع غرور کے سوا یہ کچھ بھی نہیں ہے تم نے ایک دھوکے کی بات کھڑی کر لی ہے تمہارے نفس نے دھو کے کے مزے پیدا کر لئے ہیں ان میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔اب پاکستان جیسا ملک جہاں اسلامی معاشرہ اور اسلامی اقدار کی باتیں ہو رہی ہیں ایک صاحب اٹھے جب پاکستان ہارا ہے تو پہلے ٹیلیویژن کو اپنی گولیوں سے بھون دیا پھر خود کشی کر لی خود گولیاں مار کے۔پیچھے اس کے بیوی بچے یا جو بھی عزیز تھے ان کو کس قدر دردناک تکلیف میں مبتلا کر گیا اور قوم کا منہ کالا کر گیا لیکن لعب بھی جب سر پر سوار ہو جائے تو جنون بن جاتی ہے اور جنون ہی اندھیرا ہے بالکل پاگل کر دیتی ہے مخبوط الحواس کر دیتی ہے۔کھیلوں کی لڑائیوں میں بڑے قتل ہوئے ہیں ہندوستان میں بھی اب۔اس بناء پر کہ ہندوستان کو سری لنکا نے ہرا دیا سری لنکا کی ایمبیسی پر حملہ ہو گیا۔اگر حملہ کرنا ہے تو اپنے فارن آفس پر یا اپنے ہوم آفس پر حملہ کرو تم ہارے ہو۔سری لنکا کا کیا قصور ہے جس نے تمہیں ہرایا ہے۔قصور تمہارا ہے تم ہارے ہولیکن انہوں نے ایک دوسرے کو بھی کاٹا ہے کئی قتل ہوئے ہیں اس غصے میں آکے اور پاکستان میں ایک نانی نے اپنے نواسے کی ٹانگ توڑ دی