خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد 15 205 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء ہیں کہ شیر اگر بکری کا لیلا وہاں کھڑا رہ جائے اور باقی سارے دوڑنے والے جانور بھاگ چکے ہوں یا ہرن کا بچہ رہ جائے تو اس کھڑے بچے کو شیر کبھی کچھ نہیں کہے گا، بھوکا بھی ہوتو کچھ نہیں کہے گا۔انسانی فطرت میں خدا تعالیٰ نے یہ بات رکھ دی ہے کہ جو معصوم بے سہارا ہو جس کو اپنے دفاع کی طاقت نہ ہو اس پر جانور بھی رحم کرتے ہیں لیکن اس بدبخت نے کوئی رحم نہیں کیا۔یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہوئی ہے کیوں ایسا ہوا۔آؤ ہم ان وجوہات کی تلاش کریں قانون بدلیں فلاں بات کریں فلاں بات کریں۔مگر جو مرضی قانون بدلیں جب تک قرآن کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق فطرت میں اتر کر جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک ان کو کوئی سمجھ نہیں آئے گی۔جس معاشرے میں عیش و عشرت کی طرف توجہ دلانے کے لئے تمام ذرائع اختیار کئے جار ہے ہوں اور عیش وعشرت سے منہ پھیرنے کے لئے کوئی ذریعہ اختیار نہ کیا جائے ، جہاں کھلی دعوت ہو بے حیائی کی ، جہاں لہو ولعب اس طرح پلیں اور پنپیں جیسے ماں کے دودھ پر بچہ پلتا ہے اس قوم میں محرومیاں تو لازمی ہوں گی۔یہ ناممکن ہے کہ تمنائیں اونچی ہو جا ئیں اور حصول کی طاقتیں کم ہوں اور محرومیاں پیدا نہ ہوں۔تمناؤں اور حسرتوں کا ایک طبعی تعلق ہے ایک چولی دامن کا ساتھ ہے۔پس یہ حسرتیں ہیں جو پاگل کرتی ہیں لوگوں کو اور یہ حسرتیں کئی قسم کی ہیں۔کئی ایسی حسرتیں ایسی ہیں جن کا اپنے بچپن کی حسرتوں سے تعلق ہے اور بچپن میں ایک انتقامی جذبہ پیدا ہوا ہے جو دب گیا ہے اُس وقت۔جب وہ پاگل پن دوبارہ کو دا ہے تو بچوں پر ظلم کی صورت میں وہ جذبہ اٹھا ہے اور اس نے وہ بہیمانہ ظلم کیا ہے جو جانور بھی نہیں کرتا۔تو کہاں کہاں روکیں گے قانون سے، قانون کے ذریعے جرائم کو نہیں روکا جاسکتا قانون کے ذریعے اگر بڑھتے ہوئے ، اونچے ہوتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی کوشش کریں گے تو بسا اوقات وہ دوسرے رستے نکال لے گا مگر سیلاب روکا نہیں جاسکتا ، بندٹوٹ جایا کرتے ہیں۔چنانچہ ایسا وقت بھی آیا یہاں کہ جب Drug کو روکنے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی تو انہوں نے یہ آواز اٹھانی شروع کی کہ اب Drug کو جائز ہی قرار دے دو۔جھگڑا ہی ختم کرو چنانچہ ایک بندھن ٹوٹتا ہے تو دوسرا بندھن آگے کھڑا کر دیا جاتا ہے وہ بھی ٹوٹ جاتا ہے تو پھر تیسرا۔مگر جو سیلاب ہیں جو اندر سے قوت سے اٹھتے ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی کیونکہ وہ قوانین قدرت کے تابع اٹھتے ہیں اور قوانین قدرت میں ان کی وجوہات تلاش کرو اور یہ قوانین قدرت کو سمجھنے کے بعد وہاں روک پیدا کرو جہاں ان کے اٹھنے کی جگہ