خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 204

خطبات طاہر جلد 15 204 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء میرے تو دامن کا کنارہ بھی ابھی پوری طرح نہیں بھیگا تھا جو میری گناہوں کی حسرت ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جتنا میں کر سکا ہوں یا کر سکتا ہوں اور بعینہ یہی انسانی زندگی کی صورت ہے۔حقیقت میں ہر انسان پر سوائے اس کے کہ اللہ اسے بچالے یہی مضمون صادق آتا ہے۔ہر انسان خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو اس کے گناہوں کی حسرت اس کے گناہوں کی حد سے ہمیشہ آگے بھاگ رہی ہوتی ہے سو قدم آگے چلتی ہے اور تلاش جو ہے وہ پھر بھی جاری ہے پیاس پھر بھی باقی ہے۔پس عملاً دیکھا جائے تو ہر قدم ہی وہ قدم ہے جہاں خدا تعالیٰ اس کا حساب چکانے کے لئے کھڑا ہے مگر جو اندھا ہو جو نفس کا اندھا ہو وہ بظاہر روشنی میں قدم اٹھا رہا ہے مگر وہ ہر چیز کی حقیقت جاننے سے عاری ہے۔اس میں یہ صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی کہ وہ دیکھے وہ کیا کر رہا ہے اور یہ صلاحیتیں انفرادی طور پر بھی ظاہر ہو جاتی ہیں قومی طور پہ بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔اب بسا اوقات مسائل سامنے آتے ہیں قومیں کہتی ہیں ہمارے ان مسائل کا کیا حل ہے، چوریوں کا کیا حل ہے، ڈاکوؤں کا کیا حل ہے اور وہ جو سکولوں میں داخل ہورہے ہیں بچے اٹھتے ہیں بغاوت کرتے ہیں اور اپنے پر نسپل کو قتل کر دیتے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں دن بدن یہ باغیانہ رویہ بڑھتا چلا جا رہا ہے وہ یہ سوچتے نہیں کہ جو بنیادی وجوہات ہیں وہ فطرت کے اندر ہیں انسانی فطرت کے اندر ان کی تلاش کرو اور ان کا وہاں علاج کرو جہاں سے وہ سر اٹھا رہی ہیں اور قرآن کریم نے اس تجزیے میں ہر چیز کو کھول دیا ہے کہ تمہارے اندر جولاہو ولعب کی جو جاہلانہ، پاگلوں والی تمنا ہے وہ تمہیں لے ڈوبے گی اور بالآخر تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔دوڑ و جتنا مرضی دوڑنا ہے۔ایک مثال میں فرمایا پیاسے کی طرح تم سراب کی پیروی کر رہے ہو آگے پہنچو گے تو حسرت کے سوا تمہیں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔یہ جو پاگل پن ہیں یہ بھی اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔لہو و لعب کی تمنا زیادہ ہو، اسے پانے کی توفیق کم ہو ہر وقت بے چینی میں ایک انسان جلتا رہے وہ نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ابھی حال ہی میں جو سکاٹ لینڈ میں ایک نہایت دردناک واقعہ ہوا ہے ساری قوم یہ سوچ رہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک پاگل اتنے معصوم بچوں کو اٹھ کر ذبح کر دے اور قتل کرے۔گولیوں سے بھون دے۔چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جن کے اوپر شاید کوئی جانور بھی حملہ نہ کرے، بسا اوقات جانور بھی چھوٹے بچوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔چنانچہ جو شکار کے مضمون پر مستند کتابیں ہیں وہ بتاتی