خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد 15 203 خطبہ جمعہ 15 مارچ 1996ء مر رہا۔ اپنے ملک کے غریبوں کی اس کو ہوش نہیں رہتی کجا یہ کہ افریقہ کے غریبوں کی فکر کرے یا اور دوسرے دنیا کے فاقہ کشوں کی فکر اس کو لاحق ہو جائے پس سوال ہی اس کا پیدا نہیں ہوتا۔ اپنے گھر کے، اپنے بھائی اور بہن کی ضرورتوں کی فکر سے بھی وہ مستثنیٰ اور آزاد ہو جاتا ہے۔ لہو ولعب کا رسیا تو بعض دفعہ اپنے بچوں کی فکروں سے بھی آزاد ہو جاتا ہے صرف اپنی فکر لگی رہتی ہے۔ چنانچہ کئی دفعہ بعض خواتین کے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں کہ خاوند نے جتنا بھی کمایا وہ اپنے عیش و عشرت پر خرچ کرتا ہے اتنا تھوڑا بیوی بچوں کے لئے بچاتا ہے کہ اس سے ان کی بمشکل روز مرہ کی ضرورتیں بھی وہ رہا پوری نہیں ہوتیں ۔ وہ غریبانہ زندگی بسر کرتے ہیں جب کہ باپ ٹھاٹھ سے رہ رہا ہے۔ ماں سارا دن محنت کرتی ہے اور مرتی ہے گھر میں اور خاوند آتا ہے اور اپنے حکم جتا کر اور کچھ سختیوں کے احکامات دے کر کچھ تھوڑے سے پیسے پکڑائے اور باہر جا کر ہوٹلوں میں کھانا کھاتا ،اپنے دوستوں کے ساتھ عیش و عشرت کرتا یا اور لہو ولعب کے سامان ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ تو لہو ولعب ایک بہت ہی اہم چیز ہے جس کا انسانی زندگی کے سدھارنے یا بگاڑنے سے گہرا تعلق ہے اور یہ اندھیرا نفس سے پیدا ہوتا ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ میرے اس میں مزے ہیں اور لہو ولعب ایسی چیز ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ از خود دور ہونے لگتی ہے یعنی لہو و لعب کی تمنا از خود ڈھلنے لگتی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک انسان اس دور کو نہ پہنچے سوائے اس کے کہ جوانی میں مر جائے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَتَرُهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ایسے بڑھے ملیں گے جن کی گناہوں کی حسرتیں پوری ہی نہیں ہوئیں اور گناہوں کی طاقتیں ختم ہو گئیں۔ چلنے پھرنے کی طاقت باقی نہیں رہی ، جوڑ جوڑ دکھنے لگے لیکن گناہوں کی حرص مٹی نہیں ۔ غالب نے جس طرح کہا ہے کہ: و دریائے معاصی ، تنک آبی سے ہوا خشک میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا ( دیوان غالب : 83) عجیب حال ہے میرا گناہوں کا دریا تو اپنے جوش و خروش میں اور لہریں مار مار کے اس تیزی سے بہہ گیا کہ اب وہ خالی برتن رہ گیا ہے دریا کا اس میں کچھ بھی نہیں رہا سب پانی بہہ گیا اور : میرا سر دامن بھی ، ابھی تر نہ ہوا تھا