خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 202
خطبات طاہر جلد 15 202 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء آمد کے سوویں حصے سے پوری ہوسکتی ہیں، باقی صرف عیاشی کے ذریعے ہیں عیش وعشرت کے سامان، مکانوں کی دوڑ ، جائیدادوں کی دوڑ مگر پہلے لہو و لعب کی بات کرتے ہیں کھیل تماشہ تھیٹر، سینما اور عیاشی کے اڈے یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پر ملک کی اکثر دولت خرچ کر دی جاتی ہے اور اسی کے مقابلے کے نتیجے میں پھر اندھیروں کے بطن سے اور اندھیرے پیدا ہوتے ہیں، جرائم پھیلتے ہیں اور اکثر جرائم پھیلنے کی وجہ لہو و لعب کی تلاش اور ان کی جستجو ہے اور ان کا منبع ، ان کے پیچھے چلتا ہے۔اکثر آدمی غریب ہیں یعنی دنیا کے اکثر آدمی غریب ہیں امیر ملکوں میں غربت کا معیار بدل جائے گا مگر غریب وہاں بھی ہیں اور اکثر غریب ہی ہیں۔انگلستان میں بھی اکثر غریب ہیں،امریکہ میں بھی اکثر غریب ہیں جرمنی میں بھی کوئی دنیا کا ترقی یافتہ ایسا ملک نہیں جہاں آپ یہ کہہ سکیں کہ اکثر امیر ہیں تو اکثریت غریبوں کی ہے اور لہو ولعب کا معیار امیرانہ بن جاتا ہے۔لہو ولعب میں غریبانہ لہو ولعب کوئی چیز ہی نہیں رہتی جو بھی لہو و لعب ہے وہ امیرانہ ٹھاٹھ ہیں اور وہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتی ہے وہ اخبارات میں اشتہاروں کے طور پر دی جاتی ہے وہ ریڈیو پر سنائی جاتی ہے کبھی گانوں کی صورت میں کبھی یہ بتا کر کہ یہ نئی قسم کا ایک البم نکلا ہے تو اس میں فلاں گانے والے حصہ لے رہے ہیں اس پر روپیہ خرچ کرو اور اسی طرح عیش و عشرت کے دوسرے سامان ہیں میوزک کا دلدادہ انسان کو بنا کر ایک قسم کی Drug Adiction پیدا کر دی جاتی ہے اور یہ تمام باتیں لہو ولعب سے تعلق رکھتی ہیں۔اب دیکھیں پہلا عنوان خدا نے یہ لگایا ہے دنیا کی زندگی تو لہو و لعب ہے اور اگر لہو ولعب کی تم پیروی کرو گے تو تمہیں سوائے ناکامی، نامرادی اور بالآخر تکلیف اٹھانے کے اور کچھ میسر نہیں آسکتا کیونکہ لہو ولعب کی پیروی ہی خود کئی قسم کے جرائم پیدا کرتی ہے اور وہ لوگ جو غریب ہیں ان کا دل بھی تو چاہتا ہے کہ وہ بھی امریکہ کے ہالی وڈ کے طریقے پر ویسی ہی زندگی بسر کریں اور وہ میوزک خریدیں جو دوسرے امیر لوگ خریدتے ہیں ویسے وہ Deck خریدیں جن پر Three Dimensional اثر پیدا کرنے والی میوزک پیدا ہوتی ہے۔وہ جب یہ چیزیں خرید نہیں سکتے تو پھر چاقو لے کر نکلتے ہیں یا رات کو کسی گھر کے دروازے توڑتے ہیں۔انہوں نے پیسے تو حاصل کرنے ہیں کیونکہ لہو ولعب کے رسیا بن جاتے ہیں اور پھر لہو و لعب کا رسیا انسان دوسرے انسانوں کی ہمدردی سے دن بدن محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔جس کو لہو ولعب کی عادت پڑ جائے اس کی بلا سے کوئی غریب فاقے مر رہا ہے یا نہیں