خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد 15 201 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء اب آپ اس پر غور کریں تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ وہ تمام چیزیں جو انسانی نفس سے تعلق رکھتی ہیں ، باہر سے نہیں آئیں۔جو ہم یہ کہتے ہیں۔”نعوذ بک من شرور انفسنا ومن سيئت اعمالنا“ (سنن ابن ماجه ، كتاب النكاح ، باب خطبة النكاح) تو اس دعا میں یہی اندھیرے ہیں ، یہی برائیاں ہیں جن سے بچنے کے لئے ہم خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں۔من شرور انفسنا ان شرور سے جو ہمارے اندر پھوٹ رہے ہیں اور ان برائیوں سے جو ہمارے اعمال سے پیدا ہوتی ہیں۔تو دیکھیں بیرونی کوئی چیز نہیں ہے تمام اندھیرے اس آیت سے تعلق رکھنے والے اور اس سے پہلی آیت سے تعلق رکھنے والے نفس کے اندھیرے ہیں اور نفس کے اندھیرے روشنی کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے جو نفس سے اٹھتی ہے وہ خوبصورت بن کے دکھائی دیتی ہے اور انسان پہچان نہیں سکتا کہ یہ ظلمت ہے یا روشنی ہے۔قرآن کریم میں دنیا کی زندگی کا جو خلاصہ نکالا گیا ہے یہی ہے جس کے دائرے میں دنیا کی زندگی محدود ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔تمام دنیا میں جو قوموں کی ایک دوسرے سے برتری کی دوڑ ہورہی ہے اقتصادی جنگیں ہیں یا سیاسی جنگیں ہیں یا اور معاشرتی مقابلے ہو رہے ہیں ان کا یہ آیت مکمل احاطہ کئے ہوئے ہے کچھ بھی اس سے باہر نہیں۔پس اس زندگی میں جس کا ہم خصوصیت سے آج کل اس زمانے میں مشاہدہ کر رہے ہیں اس سے بہتر خلاصہ نکالا جا ہی نہیں سکتا، ہوہی نہیں سکتا، کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا۔پہلا پہلو لَعِب وَلَھو کھیل کو داور دل بہلاوا جوں جوں یہ زمانہ ہلاکت کی طرف بڑھ رہا ہے لعب اور لہو کو زیادہ اہمیت ہوتی چلی جا رہی ہے اور زندگی کی اہم چیزوں کو نسبتاً کم اہمیت دی جا رہی ہے یہاں تک کہ اکثر دنیا کی امیر قوموں کا پیسہ زیادہ لہو ولعب پر خرچ ہو رہا ہے اور ایک معمولی حصہ ہے جو ان کی روز مرہ کی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔جو روز مرہ کی زندگی کی ضرورتوں پر انسان خرچ کرتا ہے وہ تو بنیادی طور پر اتنا تھوڑا ہے کہ امیر قومیں اگر صرف اسی پر راضی رہیں تو ان کو سمجھ نہ آئے کہ ہم اس دولت کو کہاں پھینکیں کیونکہ ایک ملک کے اکثر نہیں ، تمام انسانوں کی تمام تر ضرورتیں جہاں تک امیر قوموں کا تعلق ہے ان کی کل