خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 199
خطبات طاہر جلد 15 199 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَهُ مُصْفَرَّاثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللهِ وَرِضْوَانُ وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (الحدید : 21) یہ پانی کی بجائے یا سراب کی بجائے ایک اور مثال پیش فرمائی گئی مگر دونوں کا نتیجہ بعینہ وہی نکلتا ہے اور آخری خلاصہ یہ ہے۔وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ دنیا کی زندگی دھو کے کے سوا کچھ نہیں ہے۔جس طرح سراب ایک دھوکہ ہے اس میں پیاس بجھانے کی کوئی طاقت نہیں اور زندگی بخشنے کی کوئی طاقت نہیں۔اسی طرح دنیا کی زندگی کی اور بھی ایسی چیزیں ہیں جو محض ایک دھوکہ ہیں تم سمجھتے ہو کہ ان میں تمہارے لئے بقاء کے سامان ہیں لذتیں ہیں مگر جب تم ان کو پاتے ہوتو اس سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ بسا اوقات ان کو ایسا ضائع کر دیتا ہے کہ جو کچھ تمہاری محنتیں ہیں سب اکارت جاتی ہیں۔جن چیزوں کی تمہیں تلاش تھی وہ وہاں نہیں ملتیں۔پس وہی مضمون ہے جو سراب والا مضمون ہے مگر اس میں زیادہ تفصیل سے ان اندھیروں کا ذکر فر ما یا گیا تا کہ انسان ان کو پہچان لے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔دنیا کی زندگی کی مثال ”جان لو سے شروع ہوتی ہے آیت اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيُوةُ الدُّنْیا جان لو کہ دنیا کی مثال لَعِبٌ وَلَهُو کھیل اور تماشا محض ایک کھیل اور دل بہلاوہ ہے۔یہ ایک جوڑا ہے۔اصل میں ، ایک ہی مضمون سے تعلق رکھنے والا۔وَزِينَةً وَتَفَاخُرُ بَيْنَكُم اور زینت سجنا دھجنا اور پھر اس زینت کو ایک دوسرے سے مقابلے کے لئے استعمال کرنا تا کہ تم ایک دوسرے پر فخر کر سکو کہ دیکھو ہماری چیز اتنی خوبصورت اور اس کی ایسی بے کار اور مقابل پر بھدی دکھائی دینے والی۔یہ دوسری ظلمت ہے جس کا ذکر فرمایا۔تیسرا ہے وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ تکاثر کے نیچے دو باتیں ہیں جو ایک اور قسم کے اندھیرے سے تعلق رکھتی ہیں اور پہلا جو اندھیرا ہے وہ بھی جوڑے میں بیان فرمایا لَحِب وَلَهُوَ۔پس دوسری آیت میں جو میں نے پہلے تلاوت کی تھی اس میں بھی تین ظلمات کا ذکر ہے اور