خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 198
خطبات طاہر جلد 15 میں کس قسم کے اندھیرے ہیں۔198 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء ان دونوں آیات کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں نفس کے اندھیروں کی طرف زیادہ اشارہ ملتا ہے جو اپنے نفس سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسری آیت میں بیرونی اثرات کے اندھیرے ہیں جو بیرونی عوامل کے نتیجے میں انسان کو نور یا بصیرت سے محروم کر دیتے ہیں۔مثلاً بادل ہے وہ نفس سے نہیں اٹھتا باہر کی چیز ہے اس کے نیچے بھی ایک اندھیرا ہوتا ہے۔موج ایک بیرونی چیز ہے جو بادل کے نیچے ہو تو اور بھی اس کا اندھیرا گہرا ہو جائے گا۔اس کے نیچے ایک اور موج ہو وہ اور بھی زیادہ گہری ہو جائے گی۔تو اگلی مثال میں تین اندھیرے جو بیان فرمائے وہ تینوں بیرونی محرکات سے یا وجوہات سے تعلق رکھتے ہیں۔پہلا اندھیرا جو ہے وہ نفس سے تعلق رکھتا ہے مگر وہ بھی ایک اندھیرا نہیں ہے اس میں بھی کئی اندھیرے ہیں اور قرآن کریم کی ہر آیت پر کوئی نہ کوئی دوسری آیت روشنی ڈال رہی ہے اور اس طرح آیات کے بھی جوڑے جوڑے ہیں۔پس اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ پہلی آیت کی مثال قرآن کریم میں کس آیت میں ملتی ہے تو اس مضمون پر مزید روشنی پڑ جائے گی اور معین ہو جائے گا کہ کون کون سے خطرات نفس سے وابستہ ہیں جو اٹھ کر اندر سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کو اندھیروں میں غرق کر دیتے ہیں اور انسان سمجھتا یہی ہے کہ میں اچھی چیزوں کی پیروی کر رہا ہوں۔دیکھ رہا ہوں اور جو دیکھ رہا ہوں وہ میرے فائدے میں ہے اور اس کے باوجود وہ چیز ضرور اس کے نقصان میں ہوتی ہے۔یہ مضمون ہے جو اس پہلی آیت میں بیان ہوا ہے۔ان لوگوں کی مثال جنہوں نے کفر کیا ایک ایسے سراب کی سی ہے جو ایک بہت بڑے چٹیل میدان میں واقع ہو ،اسے پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب وہ وہاں پہنچتا ہے جہاں سمجھتا تھا کہ پانی ہے اس کی پیاس بجھانے کے لئے کوئی چیز وہاں نہیں ملتی ہاں اس کے گناہوں کی سزا دینے کے لئے خدا وہاں ملتا ہے جو اس کا حساب چکا دیتا ہے۔اس سے ملتی جلتی دوسری آیت جس میں ان نفسانی اندھیروں کی تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهُوَ وَزِينَةً وَتَفَاخُرٌ