خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد 15 197 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء ہر اندھیرے کے مقابل ایک نور ہے۔جب تک یہ اندھیرے موجودرہیں گے نور داخل نہیں ہوگا ( خطبه جمعه فرموده 15 / مارچ 1996ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں : وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابِ بِقِيْعَةِ يَحْسَبُهُ الظَّلَمَانُ مَاءَ حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدُهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَقْهُ حِسَابَةَ وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ أَوْ كَظُلُمةٍ فِي بَحْرِتُحِيْ يَغْشُهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَت بَعْضُهَا في فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْيَريَهَا وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُوْرِ (النور: 41،40) پھر فرمایا: یہ جو دو آیات ہیں ان سے متعلق میں نے گزشتہ خطبے میں یہ بیان کیا تھا کہ ان دونوں کا تعلق دراصل اندھیروں ہی سے ہے اگر چہ پہلی آیت میں بظاہر روشنی کا منظر کھینچا گیا ہے۔مگر ایسی روشنی جو روشنی کے فائدے سے محروم رکھے بلکہ الٹا اندھیروں والا نقصان پہنچا دے وہ اندھیروں سے بھی بدتر ہے کیونکہ اندھیروں میں تو انسان جانتا ہے کہ میں اندھیرے میں ہوں ،ٹول کر چلتا ہے ، احتیاط سے قدم اٹھاتا ہے ، کوشش ضرور کرتا ہے کہ اندھیرے کے نقصان سے بچ سکوں مگر جسے روشنی ہی روشنی دکھائی دے رہی ہو اس کا دھو کہ سب سے بڑا دھوکہ ہے۔پس قرآن کریم نے پہلی مثال اس روشنی کی دی ہے جو دراصل اندھیروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس روشنی کی مثال