خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد 15 194 خطبہ جمعہ 8 مارچ 1996ء نہیں دیتا مکمل اندھیرا اگر ممکن ہے تو باہر کی فضاؤں میں ممکن نہیں ہے۔ جن کو آپ مکمل اندھیرا سمجھے ہیں اگر تیز حساس فلموں سے اس اندھیرے میں تصویر کھینچیں اور وقت زیادہ دیں تو تصویر میں پھر بھی آجاتی ہیں ، میں نے خود بعض ایسے کیمروں سے تصویریں کھینچی ہیں کہ مکمل اندھیرا تھا کچھ دکھائی نہیں خود ایسے سے تصویریں پینی ہیں کہ اندھیرا تھا دکھائی ہیں دیتا تھا آنکھ سے لیکن ہلکی ہلکی روشنی کہیں سے ستاروں سے کوئی ایسی روشنی پہنچتی ہے جو انسان جس کے ذریعے دیکھ تو نہیں سکتا مگر موجود ہے اور فلم کی حساس سطح اسے قبول کر لیتی ہے۔ تو تصویر میں جب دھل کے آئیں تو خود فوٹو گرافر جس نے یہ تصویریں صاف کی تھیں حیران رہ گیا جب اس کو بتایا کہ یہ اندھیرے کی تصویر ہے۔ اس نے کہا یہ تو پھولوں کے رنگ بھی صاف آگئے ہیں ۔ مگر سمندر کی تہہ کا جو اندھیرا ہے اس میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ نا ممکن ہے۔ بیس پچیس گز نیچے سے ہی اندھیرے شروع ہو جاتے ہیں اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں جہاں دس ہزار فٹ نیچے تک سطح واقع ہو یا پندرہ یا تھیں ہزارفٹ تک وہاں جائیں تو روشنی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ تو ایک شخص اندھیروں میں سفر کر رہا ہے، اس کے اوپر بھی اندھیروں کی تہہ اور نیچے بھی اندھیرے ہیں مگر وہ بَحْرِ نجی کے اندھیرے ہیں اس لئے وہاں سے روکنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ روشنی آسکتی تھی تو اوپر سے آسکتی تھی گہرے سمندر میں نیچے سے روشنی آہی نہیں سکتی۔ تو اوپر بھی اندھیرا نیچے بھی اندھیرا اور نیچے کا اندھیرا جو خدا سے بے تعلق یعنی آسمان کی بجائے زمین سے اٹھتا ہے یا گہرے سمندر سے پیدا ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ خطرناک اندھیرا ہے۔ فرمایا ایسا شخص إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْیا تھا اپنا ہاتھ دیکھے تو نہیں دیکھ سکتا، ہاتھ بڑھائے یوں کر کے کہ کہاں ہے تو کچھ دکھائی نہیں دے گا ۔ مگر یہاں ہاتھ کا قصور نہیں ہے ، اس کے نفس کا قصور نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کا قصور نہیں ہے کیونکہ لَمْ يَكَدُ يَرَى کا مضمون بتا رہا ہے کہ آنکھوں کا نور باقی ہے مگر غیر اندھیرے چھا گئے ہیں ۔ تو فرمایا اگر تم نے نور پانا ہے تو بیرونی طور پر خود اپنے نفس کے تکبر کے اندھیروں میں بھی تم سفر کر سکتے ہو ، روشنی ہوتے ہوئے بھی تمہیں اندھیرے سے زیادہ اور کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ ویسا ہی ہے جیسے اندھیرا ہو ، ویسے ہی روشنی ہوگی اور روشنی تمہیں فائدہ دینے کی بجائے وہ نقصان ضرور پہنچادے گی جو اندھیرا پہنچا سکتا ہے۔ مگر نفس کی روشنی جو دھو کے والی ہے وہ لازماً پہنچادے گی۔ یہ فرق ہے۔ اگر آپ اندھیرے میں سفر کریں تو کسی سمت غلطی سے منہ اٹھ جائے ہو سکتا ہے وہاں پانی نکل آئے مگر جو نفس کے دھوکے کی روشنی ہے وہ آپ