خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 185
خطبات طاہر جلد 15 185 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء بے چینی اور خلاء کا احساس اور مزید کی تلاش یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن پر اگر آپ عمومی نظر ڈالیں تو ادنی بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ ایسی سوسائٹیاں پھر سراب کے پیچھے دوڑتی چلی جاتی ہیں اور جانتی ہیں کہ ہمارا حال بد سے بدتر ہو رہا ہے ، اب مغربی دنیا میں تو اللہ کے فضل کے ساتھ سچائی کا عصر اکثر مشرقی دنیا سے زیادہ ہے کیونکہ جہاں گناہوں کے بڑھ جانے نے ان کو نقصان پہنچائے وہاں کچھ ضمنی فائدے بھی پہنچائے۔یہ بات یعنی منافقت کم ہو گئی اور عام دنیا کے حالات میں اپنی کمزوریاں کھل کر بیان کرنے کے حوصلے ہو گئے اور یہ بات بُرائی تک بھی پہنچاتی ہے اور بعض فائدے بھی رکھتی ہے۔بے حیائی کے نقصان تو بہر حال ہیں مگر کچھ فوائد بھی ہیں یہ اپنے امراض کو باہر سب کے سامنے کھول کر اور دکھا کر بتاتے ہیں کہ یہ مرض ہیں یہ بڑھ رہے ہیں، یہ یہ مصیبتیں ہیں۔چنانچہ ان کے دانشور جب ان موضوعات پر ٹیلیویژن وغیرہ میں گفتگو کریں تو آپ دیکھیں ہر ایک کے اوپر یہ مایوسی ہوتی ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ، جو چاہیں زور لگالیں ہمارے نو جوان ہاتھ سے نکل گئے ہمارا امن اٹھ گیا۔دن بدن یہاں چوری، ظلم ، سفا کی بڑھتے چلے جارہے ہیں ،امن وامان قائم کرنے والی طاقتوں میں بھی رفتہ رفتہ فتور آگیا ہے ،ان کے اندر بھی بدیاں داخل ہو رہی ہیں۔قانون بناتے ہیں چیزیں روکنے کے لئے وہی قانون ظالموں کو مزید پیسے حاصل کرنے کے ذرائع مہیا کر دیتا ہے۔جتنا جرم کے خلاف سختی بڑھے گی اتنا ہی جرم پکڑنے والے ادارے،اگر بددیانت ہوں، ان کی فیسیں بھی ساتھ ساتھ بڑھیں گی ان کی طلب بھی اور اونچی ہوتی چلی جائے گی۔تو جو اصل بنیاد ہے جہاں جڑیں قائم ہیں وہاں ہاتھ ڈالے بغیر معاشرے کے اندھیرے دور نہیں ہو سکتے اور یہ آیت ان تمام اندھیروں پر برابر چسپاں ہو رہی ہے جو انسان اپنے آپ کو روشنی میں سمجھ کر یہ سمجھتے ہوئے کہ میں اپنی عقل سے اپنے لئے کچھ حاصل کر سکتا ہوں اور بظاہر وہ دیکھ رہا ہے اور اس طرح دیکھتا ہے جیسے دوسروں کو دکھائی نہیں دے رہا اس کو زیادہ پتا ہے کہ اس کا مفاد کیا ہے ایسے شخص کی زندگی اکیلی بھی اسی طرف سفر کرتی ہے اور اپنے معاشرے کی مجموعی زندگی بھی اسی رخ پر سفر کرتی ہے جس رخ پر قرآن کریم نے دکھایا ہے۔یہاں تک کہ جب وہ آخر پر پہنچتا ہے۔وَوَجَدَ اللهَ عِنْدَهُ فَوَقْهُ حِسَابَہ۔وہ اللہ کو وہاں دیکھتا ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔اب دیکھیں روشنی کے سفر کا نتیجہ روشنی ہی ہونی چاہئے۔کیسے اندرونی آپس میں تعلقات ہیں مضمون کے اور لفظوں کے۔یہ نہیں کہا