خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد 15 184 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء جس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔جتنی دنیا کی پیاس بڑھے اتنا ہی انسان اپنے نفس کو دھوکا دیتا چلا جاتا ہے اور اگر آپ کو بالکل پیاس نہ ہو پانی ہو تو آپ اس سراب کو دیکھتے بھی ہیں متوجہ نہیں ہوتے اور آپ کا دل بتا تا ہے کہ یہ پانی نہیں ہے محض دھو کہ ہے لیکن وہ جس کی جان نکل رہی ہو پانی کی بوند کے لئے اس کو تو ہر چمکنے والی چیز پانی دکھائی دینے لگتی ہے۔تو فرمایا کہ تم دنیا کی طلب میں ایسے اندھے نہ ہو جاؤ ، ایسے پاگل نہ بن جاؤ کہ جہاں کچھ سیرابی کے لئے نہ ہو وہاں بھی تمہیں پانی دکھائی دے اور تم پھر اس کے پیچھے دوڑنے لگو اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا طلبی کی اس سے زیادہ حسین مثال دی جاہی نہیں سکتی۔روشنی ہے انسان اس روشنی میں ایک اور چمکتی ہوئی چیز کو دیکھتا ہے اور اس کے پیچھے بگٹٹ دوڑا چلا جاتا ہے اس خیال سے کہ میری پیاس بجھے گی۔پس دنیا والے جن بدیوں کے پیچھے دوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیاس بجھے گی ان کی پیاس نہیں بجھا کرتی یہ ایک اور پیغام ہے جو اس آیت میں دیا گیا ہے۔ان کی روشنی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی اور دن بدن جوں جوں موت کے قریب ہوتے ہیں ان کی طلب بڑھتی چلی جاتی ہے اور بالآخر یہ یقین کر کے مرتے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ساری عمر ضائع کر دی۔چنانچہ اکثر پیٹے ہوئے سیاستدانوں سے آپ بات کر کے دیکھیں ، یا بڑی بڑی نوکریوں سے اترے ہوئے لوگوں سے ملیں یا ریٹائرڈ جرنیلوں سے بات کریں تو ان سب کی باتوں میں آپ کو یہ بات دکھائی دے گی جی کچھ بھی نہیں ہم نے اتنی خدمتیں کیں آخر کچھ نہ نتیجہ نہ نکلا۔کل تک جو پوجتے تھے آج ملتے ہیں تو دیکھتے ہی نہیں اس طرف کئی ایسے جو بڑے بڑے وزیر یا گورنر رہ چکے ہوں جب وہ دوبارہ اترنے کے کچھ عرصے کے بعد سیکرٹریوں کے کمروں میں داخل ہوتے ہیں تو سیکرٹری اس طرح ان پر نظر ڈالتا ہے جیسے کوئی مصیبت داخل ہو گئی اب یہ مانگیں گے کچھ اب تقاضا کریں گے پہلے آتے تھے تو اٹھ کر ملا کرتے تھے۔تو زندگی کی پیاس جو خدا کے فیض سے خالی ہو زندگی کی پیاس جو عشق الہی سے عاری ہواس زندگی کی پیاس کا مقصد سوائے سراب کی پیروی کے اور کچھ بھی نہیں ہے اور کبھی بھی طمانیت قلب نہیں بخشتی۔انفرادی طور پر بھی یہی اصول کارفرما ہے اور اس میں کوئی استثناء نہیں اور اجتماعی طور پر بھی یہی اصول کارفرما ہے چنانچہ Materialist Society جہاں طرح طرح کی ایجادات کی گئی ہیں عیش وعشرت کے سامان کی ، وہاں پیاس بڑھ رہی ہے لیکن بجھ نہیں رہی اور سوسائٹی کی بڑھتی ہوئی