خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 180
خطبات طاہر جلد 15 180 خطبہ جمعہ 8 / مارچ1996ء جذبات اٹھتے ہیں اور اکثر خطوں سے پتا بھی چلتا ہے کہ لوگ اس طرف متوجہ ہور ہے ہیں مگر جو مشکل کام ہے وہ منفی حصے کی صفائی ہے۔جب تک پہلے دل کی جڑی بوٹیاں اور وہ گند نہ دور کئے جائیں جو ظلمات کی پیداوار ہیں اس وقت تک فی الحقیقت نور سے محبت ہونے کے باوجود بھی نور وہاں اپنی جگہ نہیں بناتا۔عام زمیندارہ تجربے میں یہ ایک مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ بیج بو دینا اور پانی ڈالنا آسان ہے مگر کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے صاف کرنا اور ایسے ذرائع اختیار کرنا کہ بار بار محنت کے ذریعے جڑی بوٹیوں کے آئندہ ہونے کا بھی امکان نہ رہے اور مسلسل ان پر نگاہ رکھنا یہ بیج بو دینے کے مقابل پر بہت زیادہ مشکل کام ہے۔اچھے اور برے زمیندار میں یہی ایک فرق ہے۔بُرا زمیندار بھی تو بیج ڈالتا ہی ہے اور پانی بھی دیتا ہے مگر بعض دفعہ اس کی کھیتی میں سوائے جھاؤ کے اور گند کے اور کچھ بھی نہیں اگتا اور اکثر جو اس کا پیچ تھا اس کی پرورش کو وہ بوٹیاں کھا جاتی ہیں جن کا اس کھیت سے تعلق کوئی نہیں یا اس کھیت پر حق نہیں بنتا تو نور اور ظلمت کی باہمی جدوجہد میں بھی ایسے ہی مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف یہ مضمون ہے کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا یعنی نور آگیا اور ظلمتیں جاتی رہیں اور دوسری طرف یہ بھی مضمون دکھائی دیتا ہے کہ ظلمتوں نے جہاں ایک دفعہ جڑیں پکڑیں وہاں پھیلتے پھیلتے نور کو اس علاقے سے نکال دیا۔تو پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ تضاد کیوں ہے اور حقیقت کیا ہے۔اگر نور میں غالب آنے کی طاقت ہے تو جب ایک دفعہ آجائے تو پھر کیوں آخر اس نور کو ظلمتیں دھکیل کے باہر کر دیتی ہیں اور یہ جو سوال ہے یہ ایک ازل کا سوال ہے ہمیشہ سے اٹھا ہے تمام دنیا کے فلاسفرز نے اس مضمون کو کسی نہ کسی رنگ میں ضرور چھیڑا ہے کہ ظلمت اور نور کی جنگ کیا چیز ہے۔چنانچہ حضرت زرتشت کا مذہب ظلمت اور نور کی لڑائی پر ہی مینی دکھائی دیتا ہے۔اگر چہ ہر مذہب میں ظلمت اور نور کی لڑائی ہے کسی نے کسی رنگ میں اس کا ذکر کیا ہے، کسی نے کسی رنگ میں لیکن حضرت زرتشت نے اس کو اس طرح دو متقابل طاقتوں کی طرح کھول کر بیان کیا کہ بعد میں آنے والوں کو یہ دھو کہ ہو گیا کہ نور کا الگ خدا ہے اور ظلمت کا الگ خدا ہے۔پس اس پہلو سے یہ مسئلہ سمجھنے والا ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ ہم ظلمت سے اگر بچنا چاہتے ہیں تو نور اختیار بھی کر لیتے ہیں پھر بھی بچ نہیں سکتے تو آخر کیا وجہ ہے۔یہ مسئلہ حل کرنے کی خاطر میں اب یہ