خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد 15 176 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء ہے جب کہ شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک اس حدیث کی رسائی نہیں تھی۔نعوذ باللہ من ذالک۔آپ سمجھتے تھے کہ ملائکہ نور سے پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ عبارت سو فیصدی درست ہے اس میں ادنی بھی شبہ کی گنجائش نہیں۔وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا وہ ملائک کو نہیں ملا اور وہ اعلیٰ درجہ کا نور اعلیٰ تھا۔اس کا ثبوت خود حضرت اقدس محمد رسول اللہ کے معراج نے ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ملائک میں سے اعلیٰ فرشتہ ، سب سے اعلیٰ وجود روح القدس ہے اس سے اونچا فرشتوں کا وجود متصور نہیں ہوسکتا اور معراج کی شب جو عجیب روحانی کشف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا ایک ایسے مقام پر آپ پہنچے جہاں جبرائیل کے پروں نے جواب دے دیا یعنی اس کی اڑان کی طاقتیں ختم ہوگئیں۔اس نے کہا اس سے آگے میں نہیں جاسکتا، تیرا مقام ہے تو آگے چل۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہر گز کسی بھی زبان کی خوبصورتی کی خاطر کلام نہیں فرماتے۔یہ دل کی قوت سے جو نو ر صداقت پھوٹتا ہے وہ ہے جو کلام میں حسن پیدا کر رہا ہے۔ادنی بھی اس میں جھوٹ اور مبالغے کا شائبہ نہیں۔د یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا اب نجوم کے اندر نور تو ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بھی لکھ چکے ہیں کہ ہر چیز کا آغاز ہی نور سے ہوا ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ نجوم میں نور نہ ہو۔مگر اس نور میں وہ زندگی نہیں وہ اعلیٰ مقاصد کے حصول کی صلاحیتیں موجود نہیں ہیں جو انسان کو اس کے درجہ کمال تک پہنچانے کی خاطر عطا کیا جاتا ہے۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا“ یعنی یہ نور جو ہیں قمر اور آفتاب کے یہ دنیاوی زندگی تو پیدا کر سکتے ہیں مگر دنیاوی زندگی پیدا کرنے کا جو مقصد ہے وہاں تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ وہ مقصد وہی اعلیٰ مضمون ہے ، بالا مضمون ہے۔یہ زندگی بے کار ہے اگر بالآخر خدا سے نہ جا ملے۔تو اس کے لئے دنیا کا سورج نہیں سِرَاجًا منيرا چاہئے ،اس کا نور اس سے اعلیٰ اور ارفع نور ہے۔فرماتے ہیں یہ ظاہری باتوں میں بھی جونور ہے وہ بھی محمد رسول اللہ اللہ کے نور کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور جو چھپے ہوئے نور ہیں خزانوں کی