خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 175
خطبات طاہر جلد 15 175 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء ہیں اور غیر اللہ سے در حقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آ جاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی پیچلی سے 66 (کتاب البرية مع آيات رب البريه ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 65،64) یعنی اپنی کینچلی کو جب سانپ چھوڑتا ہے تو پھر کبھی اس کی طرف نہیں لوٹتا۔بظاہر سانپ کی مثال تو بڑی بھیانک سی مثال ہے لیکن زندگی کی مثالوں میں اس سے بہتر مثال نہیں دی جاسکتی کہ کوئی ایسی حالت سے اس طرح باہر آجائے کہ دوبارہ پھر کبھی اس طرف لوٹنے کا خیال بھی نہ کرے بے کار وجود کے طور پر پہلے وجود کو ختم کر دے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس نور کی طرف بلاتے ہوئے اس کی کامل مثال آنحضرت ﷺ کی صورت میں پیش فرماتے ہیں ؛ وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسانِ کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔“ اب یہ جو اقتباس ہے یہ ہمارے جلسوں میں بسا اوقات اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ بہت پر شوکت کلام ہے اور فصاحت و بلاغت کے آسمان پر ایسا بلند اور ارفع چمک رہا ہے کہ حیرت کے ساتھ نظریں اٹھتی ہیں کہ کسی قلم میں یہ طاقت ہو کہ ایسا عظیم بیان کر سکے لیکن اسی ظاہری چمک میں ہی لوگوں کی آنکھیں الجھی رہتی ہیں آواز کی شوکت اور اس کے حسن میں ہی کان لگے رہتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ یہ وہ مضامین ہیں جن میں ڈوبے بغیر آپ کو ان مضامین سے کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔محض یہ دعوی کر دینا کہ فلاں میں تھا فلاں میں نہیں تھا۔ایسے دعوے تو سب مذہب والے کرتے ہی رہتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں ادنی درجہ بھی مبالغے کا وجود نہیں۔جب آپ فرماتے ہیں تو سچ فرماتے ہیں اور حقیقت پر نظر رکھ کے جیسے سامنے دیوار پر لکھا ہوا دیکھ رہے ہوں اور اسے پڑھ رہے ہوں اس طرح آپ کے سامنے عرفان کے مضمون بیان فرماتے ہیں۔وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔۔۔“ اب ملائک میں کون سا نور ہے جو نہیں تھا۔وہ نور سے پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی اس مضمون کو کھولا اور آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا