خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 12
خطبات طاہر جلد 15 12 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء کی جب میں تفصیل بیان کروں گا تو انگلستان والوں کے لئے کافی سوچ و بچار کے سامان ہیں اس میں ایک طرف آپ کا امریکہ سے مقابلہ ہے، دوسری طرف ہندوستان سے بھی ہے اور میں آپ کو وقت پر متنبہ کر دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان دوڑ میں بہت پیچھے سے شروع ہوا اور آپ کے قریب قریب پہنچ چکا ہے۔ انٹر نیشنل کرنسی میں اگر اس کو تبدیل کر کے پیش کروں تو 5 لاکھ 77 ہزار 7 صد پاؤنڈ کے وعدے تھے یعنی آپ کی کرنسی، انگلستان کی کرنسی میں اگر ڈھالوں اس کو ، اور اس کے مقابل پر وصولی خدا کے فضل سے چھ لاکھ ستر ہزار نو صد پاؤنڈ ہوئی ۔ یہ وصولی کی جو خبریں ہیں یہ دراصل ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں کیونکہ وصولی بعد میں بھی ہوتی رہتی ہے۔ جب رپورٹیں آتی ہیں تو اس وقت تک جو ر تمہیں آچکی ہوتی ہیں سب رپورٹوں میں شامل نہیں ہو سکتیں کیونکہ حساب کتاب میں دفتری انتقالات میں وقت لگتے ہیں اور بعض لوگ اپنی وصولیاں سال ختم ہونے کے بعد بھی پچھلے سال کے حساب میں کرتے رہتے ہیں اور مرکز کو بھیجتے رہتے ہیں تو یہ جو خدا کے فضل سے حیرت انگیز وصولی کی رقمیں آپ نے سنی ہیں ان سے انشاء اللہ تعالی زیادہ ہوگی کم نہیں ہوگی ۔ اب میں بعض سالوں کے مقابلے آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ یعنی پچھلے دوسالوں کے مقابلے سال انتالیس میں یعنی 1994 ء میں چار لاکھ بیاسی ہزار پاؤنڈ کے وعدے تھے اور وصولی پانچ لاکھ چھبیس ہزار آٹھ سو چھیاسی کی تھی۔ تو یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے کہ وعدوں سے وصولی آگے بڑھ گئی ہے پچھلے دو سالوں کے موازنے میں بھی یہی ہوا تھا۔ سال 1994ء چار لاکھ بیاسی ہزار کے وعدے اور وصولی پانچ لاکھ چھبیس ہزار کی تھی ۔ سال چالیس میں پانچ لاکھ ستر ہزارسات سونوے پاؤنڈ کے وعدے اور چھ لاکھ ستر ہزار نو سو تیرہ پاؤنڈ کی وصولی اور جہاں تک فی صد اضافے کا تعلق ہے گزشتہ دو سالوں کے موازنے میں اضافہ وعدوں سے بڑھ کر وصولی کی نسبت یہ تھی 19۔86 فیصد اور یہ جو سال ابھی گزرا ہے اس کو پچھلے سال پر اپنے وعدوں اور وصولی کی جو نسبت بنی ہے ۔ وہ 1995ء میں 27 فیصد وعدوں سے زیادہ وصولی ہوئی ہے ۔ جبکہ گزشتہ سال 19۔86 فی صد تھی ۔ جہاں تک مجاہدین کی تعداد کا تعلق ہے اس لحاظ سے بھی خدا کے فضل سے یہ سال بہت بابرکت ہے۔ سال انتالیس میں ایک لاکھ اکانوے ہزار تین سو چوہتر چندہ دہندگان نے وقف جدید