خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 167

خطبات طاہر جلد 15 167 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء جگمگانے لگتا ہے۔تو دل اگر برتن ہے تو اس کا پاک اور صاف ہونا ضروری ہے۔اس برتن میں چپکے گا کیا۔وہ تیل جلے گا جو انسان کی صفات حسنہ کا خلاصہ ہے۔اس میں اس کے تمام اخلاق فاضلہ شامل ہیں ، اس کی عقل سلیم شامل ہے، اس کی فہم اور ادراک کی طاقتیں شامل ہیں۔یہ سب ہوں تو انہی کا نام خدا نے وہ تیل رکھا ہے جس کا بیان فرمودہ تمثیل میں ذکر ہے۔فرمایا؛ وو۔۔۔۔یہ نور عقل ہے ( پہلا نور قلب تھا)۔کیونکہ منبع و منشاء جمیع لطائف اندرونی کا قوت عقلیہ ہے“ ہر چیز کا منبع قوت عقلیہ ہے۔یہ وہ تفسیر ہے جو مذہب کو Rationality یعنی عقلی تقاضوں کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کر دیتی ہے کہ اسلام کے متعلق یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مذہبی عقائد ایک طرف کھڑے ہیں اور عقل دوسری طرف کھڑی ہے۔مذہبی نور بنتا ہی عقل کی آمیزش سے ہے اور عقل کی آمیزش نہ ہو تو مذہب میں کوئی نور باقی نہیں رہتا۔مگر عقل سلیم ہونی چاہئے۔ہر میلان سے پاک اور صاف ہونی چاہئے اور دل کی آماجگاہ ایسی روشن ہونی چاہے کہ وہ عقل کو دھندلا نہ دے اور کسی بیرونی بداثر کے نتیجے میں وہ نور اس سے باہر دکھائی نہ دے۔یعنی شیشہ میلا کر دیں گے تو نو راسی حد تک دھندلا یا ہوا دکھائی دے گایا اور میلا کر دیں گے تو دکھائی دینا ہی بند کر دے گا تو یہ نو عقل ہے۔کیونکہ منبع ومنشاء جميع لطائف اندرونی کا قوت عقلیہ ہے“ قوت عقلیہ کو تیز کرو گے تو تمہارے اندر لطائف جو ہیں وہ اور زیادہ چمکتے چلے جائیں گے۔اب آپ دیکھ لیں کہ مثلاً ایک دوست ہے وہ خالص دوست ہے، اس کا مخلص ہونا اس کے دل سے تعلق رکھتا ہے مگر آپ کے کسی کام کا ہے بھی کہ نہیں اس کا تعلق اس کی عقل سے ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ بے وقوف دوست سے تو عقلمند دشمن بہتر ہے کیونکہ وہ کچھ مارے گا تو عقل سے مارے گا۔بے وقوف دوست تو اپنی طرف سے بھلائی کر رہا ہو گا وہاں پھینکے گا جہاں سے تمہارے لئے نجات کی کوئی راہ نہیں ملے گی۔تو حقیقت یہ ہے کہ عقل نیت سے تعلق نہیں رکھتی ، نیت دل سے تعلق رکھتی ہے اور دوستی اور دشمنی کا تعلق دل سے ہے وہ اس کی آماجگاہ ہے۔عقل نہ ہو تو یہ دوستی کسی کام کی نہیں۔عقل نہ ہو تو انسان دشمنی بھی نہیں کر سکتا۔دشمنی بھی بھونڈے طریق پر کرے گا اور بعض دفعہ وہ دشمنی اپنے اوپر الٹ پڑے گی۔تو جمیع لطائف جس کا انسان کی ذات سے تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ