خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد 15 165 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء سکیں ان مضامین میں ان کی آنکھیں خوب کھل جاتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کا دجال کو یک چشمی قرار دینا اور دائیں آنکھ کا کلیۂ اندھی اور بائیں بہت بڑی اور روشن، یہ اسی مضمون کی وضاحت کی خاطر تمثیل پیش کی گئی ہے کہ ان کا الہی نور سے کچھ بھی تعلق نہیں ہوگا گویا کلیۂ اندھے ہیں اور جہاں تک دنیا کے اندھیروں کا تعلق ہے خدا کے نور کے مقابل پر دنیا اندھیری ہے وہاں چمگادڑوں کی طرح ان کی آنکھیں خوب کھل جاتی ہیں اور بہت روشن ہو جاتی ہیں۔وہ کچھ دیکھنے لگتی ہیں جو نور سے دیکھنے والے کی آنکھ کو وہاں اندھیرے میں دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔تو یہ دوالگ الگ دنیا ئیں ہیں جن کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح بیان فرمائی کہ جن کو اندھیروں سے پیار ہے چمگادڑ کی طرح رات کو ان کی آنکھیں خوب کھلتی ہیں۔لیکن روز روشن میں وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔خدا اپنے نور کی طرف اور یہاں نور سے مراد قرآن شریف لیا گیا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نور آنحضر کا بھی نام ہے اور قرآن کا بھی نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ خدا اپنے نور کی طرف (یعنی قرآن شریف کی طرف) جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اورلوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر یک چیز کو بخوبی جانتا ہے“ اس کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔”۔۔۔پس اس مثال میں جس کا یہاں تک جلی قلم سے ترجمہ کیا گیا ہے۔“ وہاں اصل عبارت میں وہ آیات جو ہیں اور مثال ہے اس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلی قلم سے ذکر فرمایا ہے تا کہ دیکھنے والا معلوم کرے کہ یہ مرکزی چیز ہے، بڑے قلم سے اس کو لکھا ہوا ہے لیکن یہ جو میرے سامنے تحریر ہے اس میں جلی قلم نہیں ہیں مگر میں آپ کو سمجھارہا ہوں کہ جلی قلم کے مضمون کا مطلب Underline ہے جو خاص طور پر Emphasized ایسی بات جس کو نمایاں روشن کر کے دکھایا گیا ہے، وہ کیا ہے۔فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے پیغمبر علیہ السلام کے دل کو شیشہ مصفی سے تشبیہ دی“ یعنی دل کا جہاں تک تعلق ہے وہ شیشہ ہے جو بالکل پاک اور صاف ہو اس میں کوئی داغ نہ ہو۔