خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 11
خطبات طاہر جلد 15 نتیجے میں حیرت زدہ رہ جاؤ گے۔11 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء ہرسال جماعت کی مالی قربانیوں میں اضافہ جہاں ایک طرف اس بات پر گواہ ہے کہ جماعت احمد یہ اخلاص میں آگے بڑھ رہی ہے وہاں اس بات پر بھی گواہ ہے کہ خدا اپنے وعدے پورے کرتا چلا آرہا ہے اور اتنی قربانیوں کے باوجود جماعت غریب نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے بڑھ کر امیر ہوگئی ہے۔اب اس پس منظر میں آپ کو وقف جدید کے بعض کوائف پڑھ کے سناتا ہوں۔وقف جدید کا آغاز تو 1957 ء کے آخر میں ہوا غالباً ستمبر میں یا اس کے لگ بھگ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی بنیاد ڈالی۔جوابتدائی ممبر مقرر فرمائے تھے ان میں اس عاجز کے نام کے علاوہ حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کا نام بھی تھا ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب کا نام بھی تھا جن کا ابھی چند دن ہوئے وصال ہوا ہے اور آج انشاء اللہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے گی اور حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب کا نام بھی تھا۔حضرت ملک سیف الرحمن صاحب کا نام بھی تھا اور بھی ایک دو نام تھے تو کل سات ممبران تھے جن سے اس تحریک کا آغاز ہوا اور ابتدائی وعدہ مجھے یاد ہے اس سال کا شاید ستر بہتر (72) ہزار روپے تھا اور پھر جو خدا تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ نے اسے ترقی عطا فرمانی شروع کی تو اب آج کے وقت تک پہنچتے پہنچتے بالکل کا یا پلٹ چکی ہے۔جو ابتدائی رقمیں تھیں وہ جو لاکھوں کی رقمیں تھیں کروڑوں میں بدل چکی ہیں، جو ہزاروں کی تھیں لاکھوں میں اور لاکھوں کی کروڑوں میں بدل چکی ہیں اور دنیا کی وہ قومیں بھی اب اس قربانی میں شامل ہوگئی ہیں جن کو پہلے وقف جدید کی قربانی میں شامل نہیں کیا جاتا تھا یعنی یورپ اور دیگر مغربی اقوام یعنی یورپ کی اور امریکہ اور کینیڈا وغیرہ کی اقوام۔تو اب میں مختصراً آپ کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح محبت اور پیار سے جماعت احمد یہ وقف جدید کے تقاضوں کو پورا کر رہی ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کریں کہ 73 ممالک کی رپورٹس کے مطابق 1995 ء کے سال میں جماعت احمدیہ کو تین کروڑ چار لاکھ پانچ ہزار وعدے پیش کرنے کی توفیق ملی تھی اور وصولی تین کروڑ اڑتالیس لاکھ چھیاسی ہزار ہوئی ہے۔یعنی وعدے کم اور وصولی بہت زیادہ اور اس میں سب سے آگے امریکہ نے قدم رکھا ہے ماشاء اللہ۔اس