خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد 15 10 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء پس جماعت احمدیہ، میں نے ان سے مختصر یہ کہا ویسے تو تفصیل سے مضمون بیان کر رہا ہوں مگر اس وقت میں نے ان کو اس معاملے میں کہا کہ ، اس بات کی ایک زندہ مثال موجود ہے اور یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ہمارا تعلق اس رسول سے ہے جس کے حق میں یہ وعدہ فرمایا گیا تھا اور ہمارے حق میں وہ وعدہ پورا ہو رہا ہے اور دوسری جماعتوں کے حق میں نہیں ہورہا۔اس لئے اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس کا رسول سے تعلق ہے کس کا نہیں ہے۔جب وہ وعدے پورے کرتا ہے تو کھول دیتا ہے اس بات کو کہ جن کا تعلق ہے وہ کوئی کی چھپی بات نہیں ہے۔ان لوگوں میں وہ وعدے پورے ہوتے دیکھو گے جو میں نے اپنے پیارے رسول سے کئے تھے۔پس جماعت احمدیہ کی مالی قربانیاں ایک حیرت انگیز صداقت کا نشان ہیں اور اخلاص کے بغیر اور محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لئے لوگ لاکھ طعنے دیں کہ جی یہ تو چندے کی باتیں کرتے ہیں لیکن آپ اس حقیقت پر پوری طرح قائم رہیں۔آپ کی سچائی کا قدم ٹلنا نہیں چاہئے اس حقیقت سے کہ آپ جو خدا کی راہ میں پیش کرتے ہیں وہ چٹی نہیں ہے، وہ محبت کے رشتے ہیں، محبت کے اطوار ہیں جو از خود آپ کو خدمت دین پر یعنی مالی خدمت پر مجبور کرتے چلے جاتے ہیں کوئی بیرونی دباؤ نہیں ہے، ہاں نفس کی اپنی ایک تمنا ہے کہ وہ جس نے سب کچھ دیا ہے ہم بھی تو اس کی راہ میں کوئی تحفہ پیش کریں جسے وہ قبول کرے اور ہماری اردنی پیش کش کے مقابلے پر محبت کا سودا ہواس کے پیار کی نظریں ہم پر پڑنے لگیں۔اس پہلو سے وقف جدید بھی کوئی مستی نہیں۔ساری دنیا میں جماعت احمد یہ جو ہر قسم کے چندے پیش کر رہی ہے ان میں جب وقف جدید کا اضافہ کیا گیا تو دوسرے چندوں میں کمی نہیں آئی۔یہ چندہ بڑھنا شروع ہو گیا۔یہ عجیب سی چیز ہے کہ جتنا مرضی بوجھ ڈال دو اور بوجھ ڈالو تو رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے، کم نہیں ہوتی کسی قیمت پر اور اگر بوجھ والی سواریاں ہیں تو جتنی سواریاں بعد میں داخل ہوتی ہیں وہ بھی تیز رفتار اسی طرح اسی شان کے ساتھ آگے بڑھنے والی ہیں۔جس پہلو سے بھی دیکھو یہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی علامتیں ہیں اور یہ اس وقت تک زندہ رہیں گی جب تک آپ کے اندر روحانیت زندہ رہے گی، جب تک آپ کے اندر خدا کا تعلق زندہ رہے گا جب تک آپ اپنے خرچ کو اس آیت کے اسلوب کے مطابق ڈھالیں گے جو ہمیں بتاتی ہے کہ تم نے پیار اور محبت کے نتیجے میں خدا کے حضور پیش کرنا ہے اور ڈرنا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ تم پر ایسے فضل نازل فرمائے گا کہ تم خود اس کے