خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 162
خطبات طاہر جلد 15 162 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء سے نکل کے روشنی میں آیا ہے تو بغیر روشنی کے ہو ہی نہیں سکتا۔پس وہ تمام صفات جن کو ہم مادی صفات کہتے ہیں وہ بھی نور رکھتی ہیں اور ان میں سے ہر صفت خدا تعالیٰ کے کسی نور کا پر تو ہے اور اس کے بغیر عدم ہے۔پس جب وہ صفات مر جائیں تو کائنات عدم ہو جاتی ہے۔اس لئے یہاں زندگی اور موت کی وہ بحث نہیں ہے جس کا انسان سے یا دیگر حیوانوں سے تعلق ہے۔یہاں زندگی اور موت کی وہ بحث ہے جس کا عدم اور وجود سے تعلق ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اول نور وہی ہے جس کے ذریعے عدم کو وجود میں تبدیل کیا گیا اور اس پہلو سے ہر موجود میں خدا تعالیٰ کا نور کسی رنگ میں ضرور چمک رہا ہے اور اگر نہیں ہے تو پھر وہ چیز نہیں ہے، کچھ بھی نہیں ہے۔اس تفسیر میں فرماتے ہیں۔وو۔۔کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذلتہ واجب اور قدیم ہو۔یا اس سے مستفیض نہ ہو۔خاک اور افلاک۔۔۔“ یعنی اللہ سے استفادہ کئے بغیر کوئی نور یا وجود موجود ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔”خاک اور افلاک ان کو بھی اللہ کے نور کا مورد قرار دیا۔پس یہ جو نور کی تفسیر بیان فرما رہے ہیں اس کا سفر لفظ خاک سے کیا ہے جس میں کوئی زندگی نہیں ہے اور افلاک یعنی زمین اور کائنات ساری۔"۔۔اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور : 36) میں ظاہر فرمایا گیا۔۔۔“ فرمایایہ فیضان عام ہے جس کو اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ میں بیان فرمایا گیا۔وو۔۔۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں۔۔۔“ اس میں کسب کا کوئی دخل نہیں یہ روحانیت کی جلوہ گری سے پیدا ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم نے رحمانیت سے خلق کو منسوب فرمایا۔رحمانیت ہی سے انسان کا وجود ظہور پذیر ہوا ہے۔رحمان ہی ہے جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے وہاں خالق نہیں فرماتا اللہ تعالیٰ ، رحمان فرماتا ہے کیونکہ رحمن کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی ہو اور اس سے فیض طلب کرے رحمن کے لئے ضروری نہیں ہے کہ کوئی