خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 160

خطبات طاہر جلد 15 160 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء بنایا جاتا ہے، وہی ہے جس کی دعوت کے کچھ معنی ہیں۔ورنہ ایسے دعوت الی اللہ کرنے والے بھی دنیا میں بے شمار ہیں بلکہ اکثریت میں ہیں جو دعوت تو کرتے ہیں مگر بے نور اور بے اذن۔نہ ان کو خدا نے اس دعوت کا اذن دیا نہ اس نور سے ان کا ماحول، ان کا دل ، ان کا سینہ اُجالا کیا گیا جس نور کے بغیر خدا کی طرف بلانا بے معنی ہے۔اس مضمون کا سب سے پہلا نکتہ جو سمجھنے کے لائق اور دل میں بٹھا دینے کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نور بلکہ وراء النور ہے اور ہر پر دہ خدا کا ایک نور کا پردہ ہے۔اس کی طرف دعوت دینے والا اگر اندھیرا ہو تو اس کو اس دعوت کا حق ہی نہیں پہنچتا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی نے نور سے حصہ پایا ہو اور اس کا دل، اس کا سینہ اور اس کا دماغ ،اس کی تمام صلاحیتیں روشن نہ ہوئیں ہوں۔روشنی کا کچھ نہ کچھ پر تو تو اس کے اندر ہونا ضروری ہے اور اگر کسی کے پاس وہ روشنی ہے جو خدا سے ملتی ہے تو پھر وہ خدا کی طرف بلانے کا حقدار بنتا ہے۔پھر اس کی دلیل اس کے ساتھ چلتی ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل اس کا نور ہے اور اس سے بہتر کوئی دعوت الی اللہ کی طرف بلانے کا اور نسخہ نہیں ہے اور کوئی طریق نہیں ہے کیونکہ ہر دوسرے طریق میں خامیاں ہیں اور نقصانات ہیں اور ایسی دعوتیں جھگڑوں اور فساد پر منتج ہوتی ہیں اور بسا اوقات دنیا میں دعوت الی اللہ ہی کے بہانے فسادات کئے جاتے ہیں۔اس لئے مرکزی نکتہ یہی ہے کہ نور کے بغیر دعوت کا کوئی تصور نہیں۔نور میسر ہو تو دعوت کا حق پہنچتا ہے مگر تب بھی لازم ہے کہ خدا کا اذن بھی ہو اور بغیر اذن کے کوئی دعوت نہیں ہے۔پس اذن الہی کے نتیجے میں جس دعوت کے میدان میں ہمیں جھونکا گیا ہے وہ اسلام کی اشاعت کا میدان ہے۔وہ اللہ کی طرف بلانے کا میدان ہے۔مگر اس نور کی طرف جس کے بغیر خدا کی طرف سفر ممکن نہیں ہے یعنی سراج منیر کی طرف۔سراج منیر جو سورج ہے وہ خود اپنی ذات میں خدا کا نور نہیں مگر خدا کے نور کا جو اس کے ماوراء ہے، پر لی طرف ہے ،اس کا ایک چمکتا ہوا نشان ہے۔ایسا پردہ ہے جو خو د روشن ہو گیا ہے۔پس جو سب سے زیادہ روشن پر دہ خدا کا ہمیں اس دنیا میں دکھائی دیتا ہے وہ سورج ہے اور سورج کی طرف کا سفر ہی حقیقت میں ماوراء نور کی طرف کا سفر قرار دیا جا سکتا ہے۔پس جیسے دنیاوی نظام میں سورج کی مثال ہے ویسا ہی روحانی نظام میں حضرت اقدس صلى الله محمد مصطفی علیہ کا وجود ہے جو خدا کے نور کا وہ پردہ ہے جس سے زیادہ روشن تر پردہ ہماری دنیا کے انسانوں کو دکھائی نہیں دیا، نہ دے سکتا ہے۔وہ ایسا نور کا روشن پر دہ ہے کہ جب ظاہر ہوتا ہے تو ہر نور