خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 159
خطبات طاہر جلد 15 159 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء جس دعوت کے میدان میں ہمیں جھونکا گیا ہے وہ اسلام کی اشاعت کا میدان ہے۔( خطبه جمعه فرموده یکم مارچ 1996ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کی: يَايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَك شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيران (الاحزاب : 47،46) فرمایا: اے نبی ﷺ ہم نے تجھے نگران بنا کر بھیجا ہے وَ مُبَشِّرًا اور خوش خبری دینے والا ونَذِيرًا اور ڈرانے والا وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِاِذْنِهِ اور اللہ کی طرف سے داعی، داعی الی اللہ، اس کے حکم کے ساتھ وَسِرَاجًا منيرا اور ایک روشن سورج۔یہ وہ صفات حسنہ ہیں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی بیان ہوئیں اور ان صفات کا جو مرکزی نکتہ ہے وہ نور ہی ہے اور غرض دعوت الی اللہ ہے تو وہ صفات حسنہ جونور کے گرد گھوم رہی ہیں یا نور کی تشکیل کر رہی ہیں اور مقصد دعوت الی اللہ ہے یہ مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا اور چونکہ یہ جونور کے مضامین کا سلسلہ ہے میں آج کے خطبے میں سردست اس کو ختم کر کے پھر دوسرے مضامین کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہوں اس لئے یہ آیت میں نے عنوان بنائی ہے آج کے خطبہ کی کیونکہ نور کے تعلق میں سب سے زیادہ ضرورت ہمیں دعوت الی اللہ کے لئے پیش آرہی ہے اور کوئی دعوت الی اللہ کی سکیم دنیا میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتی جب تک دعوت الی اللہ کرنے والا نور سے کچھ حصہ پائے ہوئے نہ ہو۔جونور سے حصہ پاتا ہے اور پھر دعوت الی اللہ، اللہ کے اذن سے کرتا ہے وہی ہے جو کامیاب