خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد 15 147 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء اس سے گہرا تعلق ہے یہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے اور تاریکی کو نور سے کچھ منا سبت نہیں بلکہ نور کونور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔(براہین احمدیہ حصہ سوم، حاشیہ نمبر 11 روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 195) حکیم مطلق جسے عقل کل بھی ایک موقع پر فرمایا یعنی کامل حکمتوں والا وہ ایک ہی ہے جو خدا کی ذات ہے وہ مناسبت کے بغیر کوئی فعل نہیں کرتا۔نور کو ظلم سے نہیں ملا تا یہ نا مناسب بات ہے۔کہتے ہیں ایک قطرہ بھی گندگی کا ڈھیروں دودھ میں ملا دو تو سارا دودھ گندا ہو جائے گا تو یہ غیر مناسب فعل ہے غیر حکیمانہ فعل ہے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نوراترتا ہے مگر انہی جگہوں پر جنہیں پہلے صاف کر لیا جائے اور انہیں گندگیوں سے پاک کیا جائے اور اندرونی نور انسان کو نصیب ہو، تاکہ اس نور پر نورا اترے۔جیسے آپ بھی باہر سفر کے دوران کسی جگہ بیٹھنا چاہیں تو بعض دفعہ ہاتھ سے یا رومال نکال کے وہ جگہیں صاف کرتے ہیں پھر بیٹھتے ہیں۔آپ کو اگر صفائی کا یہ احساس ہے اور اس قدر اہتمام ہے کہ جب تک صاف نہ کرلیں آپ کے کپڑے بھی اس معمولی سی میل کو نہ چھوئیں تو اللہ کی شان کے خلاف ہے کہ نعوذ بالله من ذالک ہر گندگی پہ اپنانو را تا رتا رہے۔یہ ناممکن ہے۔اس لئے کوئی گوشہ تو صاف کرنا ہوگا۔کسی گھر میں اگر کوئی اچانک معزز مہمان آجائے سارے گھر کی تو صفائی ممکن نہیں ہوتی مگر بچے اور عورتیں دوڑتے ہیں کہ کم سے کم کچھ حصہ تو صاف کر لیں اور وہ بیٹھنا چاہے بھی تو بیٹھنے نہیں دیں گے ذرا ایک منٹ ٹھہریں، ایک منٹ موقع دیں ذرا ہم اس سیٹ کو صاف کر لیں۔یہ آپ کے بیٹھنے کے لائق نہیں ہے۔انسان انسان کی عزت کرتا ہے تو یہ سلوک کرتا ہے۔کیسے ممکن ہے کہ خدا کی عزت کا احساس اس کے دل میں ہو اور اپنے دل کو صاف کئے بغیر کہے مجھے نور عطا کر۔عطا تو وہ کرے گا پر وہ اترے گا کہاں؟ جگہ کون سی تم نے بنائی ہے جہاں آکر وہ بیٹھے گا اور قیام کرے گا اور اگر تم نے جگہ بنا دی تو یا درکھو کہ پھر وہ نور خود اپنے ارد گرد روشنی کو اس طرح پھیلاتا ہے کہ اس کے قریب سے گند دور ہونے لگتا ہے۔وہ گندگی پر نہیں آتا مگر ماحول سے گندگی اس کا خوف کھاتی ہے اور اس سے پرے ہٹنے