خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 146

خطبات طاہر جلد 15 146 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء رسول اللہ ﷺ ان میں جسمانی طور پر موجودر ہے اور جب وہ مقابل پر نکلے تو جنگ بدر میں دیکھو ایک مٹھی پتھر بن گئی اور پتھروں کا طوفان لے آئی ایسا طوفان جس نے اس عظیم لشکر کے منہ پھیر دیے اور ناکارہ اور ذلیل کر دیا۔تو یہ مثبت نیکیوں کا حال ہے۔ابرار کی نیکیاں اپنے لئے ہی نہیں بلکہ عالم کی نجات کا موجب بن جاتی ہیں۔اس پہلو سے آنحضرت ﷺ وہ کامل نور تھے جنہوں نے بدیوں کا ازالہ ہی اپنی ذات سے نہیں کیا یعنی بدیوں کو قریب تک نہیں پھٹکنے دیا اور ہر پہلو سے اپنے وجود کونور مجسم کر دیا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نور کی تفسیر میں بڑے پیارے انداز میں بیان فرمایا ہے اور تمام انبیاء کی یہی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ اپنی اپنی حیثیت تو فیق کے مطابق وہ یہ کچھ کرتے ہیں تو خدا کی نظروں میں بچتے ہیں اور خدا ان سے پیار کا وہ سلوک کرتا ہے جو عام انسانوں سے نہیں کرتا۔پس اس رمضان المبارک کے حوالے سے بھی ہمیں اپنے نفس کو ٹولنا چاہئے ، اپنے تجربے کو آنکھوں کے سامنے رکھ کر یہ دیکھنا چاہئے کہ کون ساحصہ رمضان کا ایسا ہے جس کو ہماری ذات میں کچھ دوام ملا ہے۔کون سا رمضان کا حصہ ہے جو ہمارے ساتھ ٹھہر گیا ہے، ہمارے ساتھ ہمارے بدن میں ٹھہر گیا ہے اور ہمارے ساتھ حرکت کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔اگر نہیں ہے تو پھر وہ ترک شریعنی بدیوں سے رکنا یا گالیاں نہ دینا یا اور خدا کی خاطر بعضوں کے ظلم برداشت کر لینا وہ تو ماضی میں دب جائیں گے اور ان کا کچھ بھی ایسا فائدہ نہیں ہے جو آپ کو مستقلاً نجات کی طرف لے جائے۔مستقلاً نجات کی طرف جانا یہ اصل مضمون ہے جس کو سمجھنا ضروری ہے یعنی نیکی وہ ہے جو ہاتھ پکڑ لیتی ہے، آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے۔کہیں بھی دامن نہیں چھوڑتی اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ آپ نیکی پر اس پیار اور محبت سے ہاتھ ڈالیں کہ اسے اپنانے کی کوشش کریں۔وہ آپ کو واقعہ اتنی اچھی لگنے لگے کہ وہ چھوڑی نہ جائے۔اس سے محبت ہو جائے اس سے پیار ہو جائے اور یہی ہے جو دراصل نور کمانے کا ایک ذریعہ ہے ورنہ محض نور کی باتیں کرنا فرضی قصے ہیں ان کی کوئی اور حقیقت نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو تحریرات میں آپ کے سامنے پیش کر رہا تھا اب ان میں سے جو بعض رہ گئی تھیں یا کچھ حصہ شاید میں پڑھ بھی چکا ہوں مگر یہ جو صفحہ میرے سامنے ہے اس کا ایک حصہ تو یقینا رہ گیا تھا جہاں سے بات آگے بڑھانی تھی۔اس تعلق میں جو تمہید باندھی ہے اس کا