خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد 15 145 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء کا موجب نہ بن سکی کیونکہ اس میں ایک منفی پہلو تھا۔بدی سے رکنا بھی ایک نیکی ہے مگر اگر اس کی جگہ اعلیٰ خوبیاں نہ لے لیں تو وہ نیکی نیکی نہیں رہتی۔یہ اللہ کا احسان تھا کہ اس کو قبول فرما لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بہت روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ترک شر اپنی ذات میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی اگر اس کی بجائے خیر کو اپنا نا اس کے ساتھ شامل نہ ہو، اس کا لازمی نتیجہ نہ نکلے۔جہاں شر کو دور کر ووہاں خیر کو قبول کرو۔وہ خیر ہے جو حقیقت میں ترک شر کا اجر ہے اور اس کے نتیجے میں تمہیں ایک مثبت چیز ایسی حاصل ہو جاتی ہے، ایسی دولت ہاتھ میں آجاتی ہے جو پھر خرچ کرنے پر کم نہیں ہوتی ، بڑھتی ہے۔چنانچہ حقیقت یہی ہے کہ بدی کے ترک کرنے کے ساتھ جو انسان کو روحانی قوت ملتی ہے اس سے نیکی کو قبول کرنے کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ان لوگوں کا جن کا ذکر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا حال بنظر غور دیکھو کہ ان کو اس کے بعد کسی بڑی نیکی کی توفیق ملی نہیں ہے۔اگر ملی ہوتی تو وہ اس نیکی کا ذکر کرتے۔انہوں نے ایک پرانی ایسی نیکی کا ذکر کیا ہے کہ اے خدا ہم یہ شر کر سکتے تھے اس بدی میں مبتلا ہو سکتے تھے مگر تیرےخوف سے، تیرے ذکر سے مرعوب ہو کر ہم نے وہ کام نہیں کیا۔اس کے بعد تو فیق ملنی چاہئے تھی آگے بڑھنا چاہئے تھا مگر چونکہ وہ نہ کر سکے اس لئے ایک کی نیکی خود اس کے لئے بھی کافی نہیں ہوئی۔تینوں کی نیکی نے مل کر ان کی نجات کے سامان کئے۔مگر ابرار کی نیکی کا یہ حال ہے کہ ایک کی نیکی کثرت سے دوسروں کے کام آتی ہے اور ایسے لوگوں کے بھی کام آتی ہے جو گناہوں میں ملوث ہوں ، جن کا کچھ بھی نہ ہو۔بسا اوقات ان کی نجات کا موجب بھی بن جاتی ہے۔اب دیکھیں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو جب تک تو اس شہر میں ہے میں عذاب نہیں دوں گا۔(انفال :34) کتنی عظیم بات ہے جو فرمائی گئی کہ تیرے ہوتے ہوئے عذاب دیا جائے تو یہ تیری شان کے خلاف ہے اور اس عذاب میں تو بھی کسی حد تک ملوث ہوگا اور پھر اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھے گا تو تجھے بھی تکلیف پہنچے گی بہت سے مضامین ہیں اس میں۔مگر ایک محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود اہل مکہ کو عذاب سے بچا گیا جب کہ وہ دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا اگر یہ سچا ہے ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر پتھر برسا مگر اس وقت تک نہیں برسائے گئے جب تک حضرت محمد