خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد 15 144 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء باتیں کیں کہ ہم کوئی ایسی نیکی سوچیں جس نیکی کی یاد ہمارے دل میں ابھی بھی تروتازہ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ خدا کو وہ پسند آئی ہوگی اور اس نیکی کی یاد کر کے، اس کا حوالہ دے کر خدا سے دعا مانگتے ہیں یہ پہلے آپ کے سامنے کئی بار میں بیان کر چکا ہوں۔مختصر یہی کہ انہوں نے اپنی اپنی اس نیکی کی یاد کی جو ابھی تک ان کے ذہن میں تاز تھی اور اتنا یقین تھا کہ یہ نیکی اتنی پیاری ہے کہ خدا اس کے حوالے سے دعا کو ضرور قبول کرے گا۔انہوں نے اس نیکی کا ذکر دعا میں کیا اور اللہ سے عرض کیا کہ اگر واقعہ یہ تیری خاطر ایسا کیا گیا تھا تو اس پتھر کو ہٹا دے اور وہ پتھر کسی حد تک ایک اور زلزلے کی جنبش سے سرک کر آگے سے ہٹ گیا لیکن ابھی نکل نہیں سکتے تھے یہاں تک کہ دوسرے نے بھی اسی طرح اپنی پرانی نیکی کو یاد کیا اور پھر ایک تیسرے نے بھی۔یہ تو انفرادی نیکیوں کا حال ہے مگر نہ صرف یہ کہ وہ لذتیں رکھتی ہیں، فائدے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔یہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔نیکی مرتی نہیں ہے صرف یاد کے طور پر زندہ نہیں رہتی اس میں نشو ونما کی صلاحیت ہوتی ہے۔ان تین کی مثال جن کی آنحضرت ﷺ نے مثال دی ان کی مثال ایسے اشخاص کی مثال تھی جو بدیوں سے رکے ہیں۔حقیقت میں انہوں نے نیکیاں نہیں کی تھیں۔ان کے بدیوں سے رکنے کے نتیجے میں وہ ادا خدا کو پسند تو آئی اس کو خدا نے دعا کے حوالے میں قبول بھی فرمایا مگر ان میں سے کسی ایک کے لئے اس کی ایک نیکی نجات کا موجب نہیں بن سکتی تھی اور یہاں جب اجتماعی نیکی بنی ہے۔تب ان کو نجات ملی ہے۔اس حصے پر بھی غور کرو کہ ایک شخص کی نیکی کے نتیجے میں جو بدیوں سے بچنے والی نیکی تھی وہ اکیلا بھی نجات نہیں پاسکا اور اس کی اکیلے کی دعا سے پتھر اتنا نہ سر کا کہ وہ اس کے رستے سے نکل جاتا اور دوسرے بھی فائدہ اٹھاتے۔دوسرے نے جب دعا کی تو پھر سر کا کہ بمشکل گھسٹ کے شاید کوئی آدمی نکل سکتا ہو مگر جو مضمون بیان ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ اتنا راستہ نہ بن سکا تھا کہ اس سے انسان گزرسکتا اور تیسرے نے جب دعا کی تو اتنا سرک گیا کہ اس میں سے ایک آدمی نکل سکتا تھا چنا نچہ تینوں اس میں سے نکل گئے۔انبیاء کی نیکی کا مقام بہت بلند ہے اور ابرار کی نیکی کا مقام بھی اس سے بہت بلند ہے۔اس لئے وہ لوگ جو اس نیکی کی مثال سے متاثر ہو کر سمجھتے ہیں کہ اسی قسم کی کوئی ایک نیکی ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے نجات کا موجب بن جائے گی۔ان کو غور کرنا چاہئے کہ ان میں سے کسی کی نیکی بھی اس نجات