خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد 15 9 خطبہ جمعہ 5 /جنوری 1996ء ملتی ہے جو وعدہ کی گئی تھی یعنی اگر کسی نے 7572 روپے کا وعدہ کیا تھا تو خدا تعالیٰ یقین دلانے کی خاطر کہ یہ میں نے خصوصیت سے تمہارے اخلاص کو قبول کرتے ہوئے اس لئے دی ہے کہ تم اپنا تحفہ مجھے پیش کر سکو اور جو رقم ملتی ہے 7572 روپے ہی ہوتی ہے۔اب یہ جو واقعات ہیں یہ جماعت احمد یہ کی تاریخ میں ایک زندہ اور جاری و ساری حقیقت بن چکے ہیں یہ کوئی ماضی کے قصے نہیں ہیں۔جیسے کل تھے ویسے آج بھی ہیں ، جیسے آج ہیں ویسے کل بھی ہوں گے اور یہ نشان صداقت اور عظمت کا نشان سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا میں اور کسی جماعت کو عطا نہیں ہوا۔پھر وہ لطف ایسا محسوس کرتے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ وہ ہر سال ہر آنے والے وقت میں قربانی میں پہلے سے بڑھ جاتے ہیں۔صاف ثابت ہے کہ وہ محبت ہی کے نتیجے میں خرچ کر رہے ہیں چھٹی والے تو ایسا نہیں کیا کرتے۔کل جو لقا مع العرب کا پروگرام تھا اس میں منیر عودہ صاحب نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ نئے سال کی باتیں ہو رہی ہیں پر انا سال جارہا ہے، لوگ خوشیاں منارہے ہیں۔جماعت احمدیہ کا کیا موقف ہے۔اس میں جو میں نے تفصیل سے ان کو موقف سمجھایا کل ایک یہ بات بھی ان کو سمجھائی کہ جماعت احمدیہ کا ہر آنے والا سال گزرے ہوئے سال سے لازماً بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ جماعت احمدیہ پر کوئی ایسا سال طلوع کرے جو پچھلے سالوں سے کسی طرح نیکیوں میں پیچھے رہ جائے وہ ضرور آگے بڑھتا ہے اور اس کا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ملے سے براہ راست ہے کیونکہ آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ایک وعدہ فرمایا ہے اور وہ وعدہ ہر اس شخص کے حق میں اور اس جماعت کے حق میں لازما پورا ہو گا جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنا ذاتی تعلق پختہ کر لیتا ہے یا کر لیتی ہے۔وہ وعدہ ہے۔وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ نَّكَ مِنَ الْأولى (الضحی :5) تیرے لئے یہ قانون ہے جو اٹل ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ، تیرا ہر آنے والا لمحہ ہر گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہوگا۔اس کے باوجود آپ کی زندگی میں ابتلاء بھی آئے، کئی قسم کی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے ،جسمانی آزار بھی پہنچائے گئے مگر یہ وعدہ پھر بھی پورا ہوتا رہا۔کوئی ایذارسانی، کوئی رستے کی روک آپ کے اور آپ کی جماعت کے قدم آگے بڑھنے سے روک نہیں سکی۔پس یہ مراد نہیں ہے کہ وقتی تکلیفیں نہیں آئیں گی۔مراد یہ ہے کہ دشمن جو چاہے کر لے ناممکن ہے کہ تیرے آنے والے لمحات کو گزرے ہوئے لمحات سے بدتر کر صلى الله کے دکھا دے وہ لازماً زیادہ شان سے چمکیں گے، لا زما ان کو زیادہ رفعتیں عطا ہوں گی۔