خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 143

خطبات طاہر جلد 15 143 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء سوائے اس کے کہ اللہ اسے جزاء دینے کے لئے وہاں موجود ہو۔تو دنیا کی لذتوں کی بھی ایک تھکاوٹ ہے اور امر واقعہ ہے کہ جو لوگ غور کریں ان کو محسوس ہو گا کہ ضرور اس میں تھکاوٹ پائی جاتی ہے کیونکہ انسان جو دنیا کی لذتوں کی طرف دوڑتا ہے اور مگن ہو کر پیروی کرتا ہے جہاں پہنچتا ہے کہ اب مجھے کامل تسکین نصیب ہو جائے گی اسے کامل تسکین نصیب نہیں ہوتی۔وہی جگہ جو بہت ہی پیاری دکھائی دیتی تھی وہ لڈتوں سے خالی ہوتی ہے اور خالی ہونے میں وقت نہیں لیتی۔تھوڑی دیر ہی میں آنا فانا اس کا حسن زائل ہو جاتا ہے، اس کے حسن کی عادت پڑ جاتی ہے ،اس کا آرام مزید آرام نہیں رہتا، اسی آرام میں کچھ تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے اور انسان بہتر اور اعلیٰ لذتوں کی طرف یعنی نسبتا کامل حسن کی طرف زیادہ آرام کی طرف حرکت شروع کرتا ہے۔اگر نہ کرے تو جس کو اس نے جنت سمجھا تھا وہ اس کی بوریت بن جائے گی۔وہ ایک جگہ ٹھہر کر دنیا کی پیروی میں کوئی ایسا مقام قرار نہیں دے سکتا کہ میں اب یہاں ٹھہر گیا ہوں یہاں میری تسکین ہے۔سراب کی طرح اس کی تسکین اس کے آگے دوڑتی ہے اور اس سے بہتی ہوئی دور دکھائی دیتی ہے اور پھر وہ کوشش کرتا ہے اور پھر اس سے یہی ہوتا ہے منزل بہ منزل اس کی لذتیں اس سے بھاگتی چلی جاتی ہیں۔جب وہ پاتا ہے تو تھکاوٹ تو پاتا ہے لیکن وہ تھکاوٹ دور نہیں ہوتی۔وقتی طور پر ایک جھلکی سی محسوس ہوتی ہے کہ مجھے امن ملا ہے لیکن تھوڑی دیر میں وہ امن کا تصور غائب، وہ حسن کو پالینے کا لطف جاتا رہتا ہے صرف ایک پیروی، دوڑ کی تمنا ہے جو اسے پھر اور آگے لے جاتی ہے۔یہ سراب کی پیروی ہے۔مگر جو دینی لذتیں ہیں انکی بالکل اور مثال ہے ان میں جو آپ نیکی کمالیں وہ ہمیشہ کے لئے آپ کی تسکین کا موجب بن جاتی ہے۔بعض ایسی نیکیاں ہیں کہ جو اپنی تکلیف کے لحاظ سے تو تھوڑی دیررہ کر گزر گئیں مگر اپنے سکون کے لحاظ سے وہ کبھی بھی مٹتی نہیں یہاں تک کہ مدتوں ان کی یاد دل کی تسکین کا موجب بنتی ہے۔جب انسان کو خوف دامن گیر ہو جائیں تو وہی ایک آدھ نیکی جو کسی وقت اس کو توفیق ملی وہ ایک ہی سایہ رہ جاتا ہے جس میں وہ ماحول کی تکلیف اور اس کے عذاب سے امن ڈھونڈتا ہے وہاں کچھ تسکین پاتا ہے۔آنحضرت ﷺ ایسے آدمیوں کی مثال پیش کرتے ہیں کہ تین آدمی ایک غار میں اس طرح پھنس گئے کہ زلزلے کی وجہ سے ایک بہت بڑا پتھر اُن کے سامنے آگیا اور وہ اس سے نکل نہیں سکتے تھے۔انہوں نے بھی یہی نفسیاتی تسکین کی راہ ڈھونڈی اور آپس میں