خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 137
خطبات طاہر جلد 15 137 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء فائدے کا ذکر فرمارہے ہیں وہ یہ ہے کہ تمہیں خوب محنت کرنی پڑے گی۔اگر تمہیں دس راتوں کی محنت کی توفیق نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے آخری سات راتوں کے اندر اس مضمون کو اکٹھا کر دیا ہے۔یہ سات را تیں تو محنت کر لو۔ان سات راتوں میں سے اب دو راتیں باقی ہیں۔یعنی ایک رات نسبتا آرام ،مگر وہ بھی یہ نہیں ہے کہ تجد چھوڑ دینا ہے اس رات کوشش کریں اور نسبتا آرام۔مگر پھر دوسری رات جو طاق راتیں ہیں ایک ستائیس اور ایک انتیس کی۔ان راتوں میں خوب محنت کریں اور وہی مانگیں جس کی نصیحت حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمائی ہے کہا اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یہ دعا بہت عظیم دعا ہے اس دعا کی قبولیت کا نشان آپ کی بعد کی زندگی بنے گی۔ایک تو یہ بات یا درکھیں۔دوسرے مختصر میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ راتوں کو عبادت میں محنت کیا کرتے تھے اور دن کو خدمت خلق میں محنت کیا کرتے تھے۔محض آپ کی راتیں نہیں جاگتی تھیں آپ کا دن بھی غیر معمولی طور پر جاگ جایا کرتا تھا۔اتنا صدقہ و خیرات کرتے تھے اتنی غریب کی خدمت کرتے تھے کہ صحابہ حیران رہ جاتے تھے کہ اتنی محنت ، اتنی مشقت جیسے آندھی چل پڑی ہو صدقہ و خیرات کی اور غریب پروری کی ، یہ آپ کا دستور تھا۔تو صرف راتوں کو نہ جاگیں آپ دن کو بھی یہ سوچیں کہ آپ کے گردو پیش میں کون غریب ہیں، کون محروم ہیں، کن کی خدمت سے خدا تعالیٰ آپ کی راتوں کی دعائیں قبول کر لے گا۔پس یہ بھی وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں آپ کی تقدیر کے فیصلے ہوں گے۔آپ غریب کی حالت بدلنے کی کوشش کریں اللہ آپ کی حالت کو تبدیل فرمائے گا۔اور آئندہ عید میں بھی میرا پیغام یا درکھیں کہ آپ کی سچی عید تب ہوگی جب آپ غریبوں کی عید کریں گے۔ان کے دکھوں کو اپنے ساتھ بانٹیں گے ، ان کے گھر پہنچیں گے ،ان کے حالات دیکھیں گے، ان کی غریبانہ زندگی پر ہو سکتا ہے آپ کی آنکھوں سے کچھ رحمت کے آنسو برسیں۔کیا بعید ہے کہ وہی رحمت کے آنسو آپ کے لئے ہمیشہ کی زندگی سنوارنے کا موجب بن جائیں۔ہوسکتا ہے آپ کو پہلے علم نہ ہو کہ غربت کیا ہے اس وقت پتا چلے اور آپ کے اندر ایک عجیب انقلاب پیدا ہو جائے۔پس لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا صرف رات سے تعلق نہیں ہے۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا دنوں سے بھی تعلق ہے اور آنحضرت ﷺ کے متعلق ثابت ہے کہ راتوں کی عبادتیں غیر معمولی شان کے ساتھ بڑھ