خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد 15 8 خطبہ جمعہ 5 /جنوری 1996ء نام پر جمیعتیں بھی بناتے ہیں، خدمتیں بھی کرتے ہیں مگر اس وقت تک جب تک کوئی پیسہ عطا کرنے والا ہاتھ ان کو عطا کرتا رہے۔کسی حکومت نے امداد بند کر دی تو ان کی خدمتیں بھی و ہیں ختم ہو جاتی ہیں مگر وہ جماعت جو خدا کے نام پر بنی نوع انسان کی خدمت بھی کر رہی ہو اور مذہب کی خدمت بھی کر رہی ہو یعنی دینی ، روحانی اقدار کی بھی ، ایک ہی ہے کل عالم میں جو جماعت احمد یہ ہے جو یہ سب کچھ کرتی ہے اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے کرتی ہے۔کوئی غیر ہاتھ اس کو عطا نہیں کر رہا ،ہاں اللہ کا ہاتھ ہے جو عطا فرماتا ہے۔اور یہ بات کہ خدا کی خاطر کرتے ہیں طیبات دیتے ہیں، جو کمایا وہ خدا کی عطا سمجھتے ہوئے اس کے حضور عاجزانہ طور پر پیش کرتے ہیں اور اس میں لذت محسوس کرتے ہیں یہ اس طرح ثابت ہوتی ہے کہ ہر سال قربانی والا آگے بڑھتا جاتا ہے۔وہ شخص جس کو قربانی کرتے ہوئے تکلیف محسوس ہو وہ دو چار سال چلے گا اس کے بعد تھک کے رہ جائے گا۔کہے گا بس کا فی ہو گئی ، جو دینا تھا دے دیا ، اب نہ ہمارے دروازے کھٹکھٹائے جائیں اور جن کو یعنی جماعت احمدیہ کے جن مخلصین کو خدا کی راہ میں قربانی کی عادت ہے اگر سیکرٹری مال ان کے دروازے کھٹکھٹانا چھوڑ دے تو وہ جا جا کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔کہتے ہیں کیا بات ہو گئی تم ہم سے چندہ لینے نہیں آئے اور دیکھو اگر اس طرح ستی کی تو پھر ہوسکتا ہے کہ ہم سے غفلت ہو جائے اور پھر یہ روپیہ کہیں اور خرچ ہو جائے اور جوان سے بھی آگے سبقت لے جانے والے ہیں وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ روپیہ جو خدا کے لئے وقف کیا ہے کسی اور جگہ خرچ ہو جائے گاوہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ روپیہ جو ہم نے فلاں غرض کے لئے رکھا ہوا تھا کیوں نہ خدا کی راہ میں خرچ کر دیں کیونکہ پھر توفیق ملے نہ ملے اور ایسے واقعات بڑی کثرت سے ہر سال ہوتے ہیں اور بڑی کثرت سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ جو فضل کی صورت میں ان معنوں میں ہے کہ ہم بڑھانے والے ہیں یہ بھی پورا ہوتا چلا جاتا ہے۔ایسے حیرت انگیز واقعات آئے دن میرے سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک آدمی نے وعدہ کیا ہے معین طور پر وعدہ کرتے وقت پوری طرح دل کو اطمینان نہیں ہے کہ میں پورا بھی کر سکوں گا مگر اخلاص تھا ، ہمت تھی وہ وعدہ کر دیا اور پھر دعا کی کہ اللہ اسے پورا کرنے کے سامان فرمائے۔پھر جس طرح غیب سے وہ سامان پیدا ہوتے ہیں اور بسا اوقات بعینہ اتنی رقم اچانک