خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 7

خطبات طاہر جلد 15 7 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء نصیب ہوگئی اور حکمت کی باتیں ہیں ساری جو آپ نے سنی ہیں اور حکمت کے متعلق ایک واضح حقیقت ہے جو آج کے زمانے میں خوب کھل گئی ہے کہ جن کے پاس حکمت ہے وہ امیر ہیں جن کے پاس حکمت نہیں وہ غریب ہیں۔ساری قو میں جو آج دنیا کے اموال پر قابض ہوئی ہیں اپنی حکمت کے ذریعے قابض ہوئی ہیں انہوں نے اسرار علوم کو سیکھا ہے۔وہ علوم کے پردے میں جو راز تھے ان کو دریافت کرنے والے لوگ ہیں اور اس کے نتیجے میں تمام دولتوں نے اپنے خزانوں کے دروازے ان پر کھول دئے ہیں اور جو بے چاری قو میں حکمت سے عاری ہیں جاہل قو میں ہیں ان کو اموال بھی نصیب نہیں ہوئے ، جو تھا وہ بھی امیر قومیں لوٹ کر لے گئیں۔تو قرآنی تعلیم حکمت کے خزانوں سے بھری پڑی ہے۔فرمایا: وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا۔جو بھی تم میں سے حکمت عطا کیا جائے گا اسے گویا بہت مال و دولت نصیب ہوا۔وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ لیکن عقل والوں کے سوا سیکھتا کون ہے۔مصیبت تو یہ ہے۔اتنی باتیں کھول کر بیان ہوئیں ہیں پھر بھی جب خرچ کے وقت آئیں گے تمہاری مٹھیاں بند ہی ہو جاتی ہیں جن کو کنجوسی کی عادت ہے پھر تمہیں حوصلہ نہیں پڑے گا۔وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ اہل عقل کے سوا کون ہے جو نصیحت پکڑتا ہے جو ان نصیحت کی باتوں سے استفادے کی طاقت رکھتا ہے۔یہ جو مضمون ہے آگے آیتوں میں بھی یہ چل رہا ہے لیکن میں آج صرف ان دو آیتوں پر اکتفا کرتے ہوئے وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔وقف جدید کا 1995ء میں چالیسواں سال غروب ہو رہا ہے اور 1996ء میں اکتالیسواں سال طلوع ہو رہا ہے۔سال 1994 ء انتالیسواں سال تھا، سال 1995 ء چالیسواں اور اب جس سال میں ہم داخل ہو چکے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کا اکتالیسواں سال ہے اور جماعت احمد یہ بحیثیت مجموعی جو خدا کی راہ میں خرچ کر رہی ہے اور جس انداز سے خرچ کر رہی ہے اس پہلو سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی یہ ایک ایسی دلیل ہے جو سورج کی طرح روشن ہے۔دن کو سورج بن کر چمکتی ہے تو رات کو چاند بن کے نور برساتی ہے۔دن رات جماعت احمد یہ جو خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کر رہی ہے ان کے اندر ایسا نور ہے کہ اس کی مثال دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔کوئی ہے تو جماعت لا کے دکھائے۔ہم نے تو ایسے دیکھے ہیں جو دین کے