خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 133
خطبات طاہر جلد 15 133 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء سے تعلق نہیں رکھتا تھا بلکہ صحابہ کی ایسی رویا سے تعلق رکھتا تھا جن کا اتفاق ہو گیا اور یہ ایسا مضمون ہے جو ہمیشہ کے لئے اسی طرح جاری ہے۔ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی فضل نازل ہونا ہو تو اکثر لوگوں کو جو ر و یا دکھائی جاتی ہیں وہ ایک ہی مضمون کی ایک ہی طرح کی اور بہت سے امور میں اتفاق کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اس وقت اگر اس سے برعکس کوئی رویا آجائے تو یہ صاف پتا چلتا ہے کہ یہ اس کے نفس کی رویا ہے کیونکہ آسمان سے جو برکتوں کا نزول ہو رہا ہے اس کی روشنی میں تو رویا اور طرح کی دکھائی جا رہی ہیں ۔ ایک اکیلا آدمی کوئی بدنصیبی کی رؤیا دیکھ لیتا ہے ، کوئی غلط مضمون اس کو دکھایا جاتا ہے تو صاف پتا چلتا ہے کہ اس کے نفس کا تاثر ہے۔ حقیقت میں ان رویائے صادقہ کے خلاف اس رویا کو نہیں لیا جا سکتا جو کثرت سے دنیا میں دوسری جگہ لوگوں کو دکھائی جا رہی ہیں اور جب بھی ایسا ہو ہمیشہ یہ نتیجہ درست ثابت ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اگر کوئی خاص فضل نازل فرمانا ہے تو مختلف ممالک کے احمدیوں کو ویسی ہی خواہیں آنے لگ جاتی ہیں اور موسم کے طور پر آتی ہیں ۔ صاف پہچانی جاتی ہیں کہ یہ الہی خواہیں ہیں۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو ہمیشہ ایک ہی طرح کی خواہیں اپنے نفس کے مطابق آتی رہتی ہیں۔ بعضوں کے نفوس ایسے ہیں جو خود ڈرے ہوئے ہیں اور ہر وقت ڈراتے رہتے ہیں ۔ ان کو جب خواب آئے نحوست کی خواب ہی آتی ہے اور وہ لکھ لکھ کے مجھے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے کوئی ڈر نہیں آپ کی خوابوں کا ۔ آپ نے جتنا ڈرنا ہے ڈرتے رہیں۔ بے شک ان میں کوئی حقیقت نہیں ۔ یہ وہ خواہیں ہیں جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی بائیں طرف تھوک دیا کرو اور لاحول پڑھ کے سو جایا کرو کیونکہ جو عالمی مضمون ہے رویا کا وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی رکھتا ہے اور دیا اپنی اندرونی صفائی ، اپنے اندرونی نشانات سے صاف پہچانی جاتی ہے کہ الہی رویا ہے۔ ایک یہ بات ہے جو اس حدیث سے ضمناً ہم نے پائی یعنی زائد فائدے کے طور پر پائی ۔ صلى الله دوسری یہ کہ آنحضرت ﷺ نبی ہیں۔ عالم الغیب سے سب سے زیادہ تعلق آپ کا ہے لیکن اس کے باوجود آپ کے غلاموں سے بھی خدا ایسا تعلق رکھتا تھا کہ ان کو ایسی سچی خوا میں دکھاتا تھا کہ وہ مبشر بن کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور یہ مضمون کہ کسی اور شخص کو نبی کو خوشخبری دینے کے لئے چنا جائے یہ قرآن کی دوسری آیات سے بھی ثابت ہے ۔ چنانچہ وہ جو الله