خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد 15 128 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء محرومی ہو تو ساری زندگی کی محرومیاں چھوڑ کے چلی جاتی ہے۔اسی لئے فرمایا کہ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ وہ رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ہزار مہینے تقریباً اسی (80) سال بنتے ہیں۔انسان کی عمر بھی اتنی (80) سال کے لگ بھگ شمار کی جاتی ہے۔یعنی غریب قوموں میں تو اگر چہ زندگی کی اوسط کم ہو گئی ہے مگر احقاب کا لفظ جو عربی میں آتا ہے وہ اسی (80) سال کا ہی ہے اور قرآن کریم نے بھی ایک صحتمند آدمی کی اوسط عمر اسی (80) سال ہی مقرر فرمائی ہے۔خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرِ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسی (80) سال سے اوپر کچھ مہینے تو اب یہ دیکھ لیجئے کہ ایک رات ایسی آتی ہے جو ساری زندگی کی راتوں سے ، ساری زندگی کے دنوں سے، ہر ہر لمحے سے برکتوں میں بڑھ جاتی ہے اور بڑی فضیلت والی رات ہے جو ساری زندگی پر بھاری ہے۔ایک طرف سیہ رات اور دوسری طرف باقی ساری راتیں ، سارے دن ، تمام لمحات ، جن کو وہ راتیں اور دن سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔اس رات کی تلاش بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہاں اسی (80) مہینوں والی رات سے مراد واقعہ ایک ایسی رات ہے جو قبولیت کی رات ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس رات کا تعلق بخشش سے باندھا ہے اور سب سے بڑی برکت یہ بیان فرمائی ہے کہ پچھلے سارے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس بخشش کا تعلق سچی توبہ سے ہے۔پس وہ رات جو تو بہ کی رات ہے وہ نصیب ہو جائے یہ مراد ہے۔ایسی رات جس میں انسان اپنے ماضی پر نگاہ ڈال کر اپنی کمزوریوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے اور ایک ایک کر کے ان کو رد کرتا چلا جائے اور ایک ایک کے تعلق میں خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجائے اور ان سے دور ہٹنے کا فیصلہ کر لے۔یہ جو اپنی زندگی کا تفصیلی جائزہ ہے یہ وہ جائزہ ہے جو اس رات کو آپ کے لئے برکتوں سے بھر سکتا ہے۔ورنہ چند باتیں آپ مانگ کر آجائیں کہ ہمیں دولت مل جائے ، زمین مل جائے ،مقدموں کے فیصلے ہو جائیں اولاد نہیں ہو رہی اولا دعطا ہو جائے تو اس سے ان دعاؤں کے قبول ہونے یا نہ ہونے سے آپ کی زندگی کی برکتوں کا اصل میں کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ زندگی کی برکتیں اس فیصلے سے تعلق رکھتی ہیں کہ تم خدا کے ہو گئے ہو ، اس فیصلے سے تعلق رکھتی ہیں کہ اب یہ برکتیں زندگی بھر تمہیں کبھی نہیں چھوڑیں گی اور ہمیشہ کے لئے تمہارے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔وہ پاک تبدیلی کیا ہے هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ کہ تمہارے اندر سے