خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 126
خطبات طاہر جلد 15 126 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء آپ کی ذات کے متعلق آسمان سے ہوں گے کیونکہ یہ قبولیت کی رات ہے۔ہر نیکی میں آسمان سے مددگار اترتے ہیں مِنْ كُلِّ امْرِفُ سَلم (القدر : 5 تا6) ہر بات میں سلامتی ہوتی ہے۔مگر انسان کی اپنی تقدیر کے فیصلے کا اس کی اپنی ذات کے ریزولیوشن سے ،اس کے اپنی ذات میں کئے ہوئے عہدوں سے ایک گہرا تعلق ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:12) اب فیصلہ تو اللہ نے کیا ہے اور یہاں بھی یہی فرمایا گیا ہے يُفْرَقُ فیصلے کئے جائیں گے كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ ہر فیصلہ جو کیا جائے گا وہ امر حکیم ہو گا یعنی حکمت کے ساتھ فیصلے ہوں گے۔یونہی اندھا دھند فیصلے نہیں ہیں کہ جس طرح بعض دفعہ بڑے لوگ بیٹھ جاتے ہیں کہ چلو جی یہ اس کو دے دو اور فلاں اس کو دے دوان کو پتا ہی کچھ نہیں ہوتا کہ جس کے حق میں فیصلے کر رہے ہیں وہ اس لائق بھی ہے یا نہیں۔تو قرآن کریم فرما رہا ہے کہ اللہ اس رات جو فیصلے کرتا ہے وہ تمام فیصلے حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور انسانی فیصلوں کا جہاں تک تعلق ہے وہ پہلے ہوتے ہیں ان کے مطابق پھر ان کی سچائی پر نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ آسمان سے ایک فیصلہ صادر فرماتا ہے۔اس کی تائید میں یہ دلیل ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت بدلتا نہیں جب تک پہلے وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر اس نے اپنی حالت بدل لی ہے تو اللہ پھر کیسے بدلے گا۔وہ تو بدلی گئی ،تبدیل ہو گئی، غور کی بات ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوْا مَا بِأَنفُسِهِم جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں خدا ان کی حالت نہیں بدلتا مگر یہ جوتر جمہ ہے یہ درست نہیں۔ترجمہ ہے مَا بِأَنفُسِهِمْ جب تک وہ اپنے دل کی اندرونی نیتوں کو تبدیل نہ کریں ، وہ اپنے دلوں میں کچھ فیصلے نہ کریں، اس وقت تک ان کی حالت تبدیل نہیں ہو سکتی۔اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان خواہ کیسے ہی اچھے فیصلے کرے محض اپنے فیصلوں سے توفیق نہیں پاسکتا کہ ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل کر لے جن کی خاطر فیصلے کئے ہیں۔فیصلوں کے پورا ہونے کی توفیق آسمان سے اترتی ہے۔پس انفُسِهِم نے ہمیں بتایا کہ دراصل قوم اپنی حالت تبدیل نہیں کیا کرتی حالت تبدیل کرنے کے ارادے باندھا کرتی ہے، حالت تبدیل کرنے کی تمنائیں دلوں میں پیدا ہوتی ہیں اور