خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 120

خطبات طاہر جلد 15 120 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء کو فرقان کہا جاتا ہے جو کھرے کھوٹے میں اس طرح تمیز کر دیتی ہیں جیسے دن چڑھ جائے تو اندھیرے اور روشنی میں تمیز ہو جاتی ہے۔تو الفُرْقَانِ ہر اس غالب اور طاقتور دلیل کو کہتے ہیں جس کے بعد کسی ابہام کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔یہ رمضان کے تعلق میں جو قرآن اتارا گیا، قرآن کی تفصیل ہے کہ قرآن کیا کچھ کہتا ہے۔یہ آیات جو میں نے آج تلاوت کی ہیں ان میں یہی باتیں جو سارے رمضان کے متعلق فرمائی گئیں ہیں ایک رات کے متعلق فرمائی جا رہی ہیں گویا رمضان میں ایک رات ایسی آتی ہے جو سارے رمضان کا خلاصہ ہے۔پس وہ لوگ جو یہ اصرار کرتے ہیں کہ قرآن کریم رمضان ہی میں اتارا گیا ہے اس آیت کو کہاں لے جائیں گے اور اس کا کیا معنی کریں گے کہ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ مبرَكَةِ ہم نے قرآن کو ایک رات لَيْلَةِ قُبُرَكَةِ میں اتارا ہے تو لازماً اس کے وسیع تر معنے ہیں اور اسی سے استنباط ہوتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ دراصل اس رات سے مراد محض ایک رات نہیں بلکہ وہ اندھیری راتوں کا دور ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے زمانے میں بے حد گہری ہو چکی تھیں۔ظلمت نے ڈیرے ڈال دیئے تھے ،نور کا کوئی نشان باقی نہیں رہا تھا اس رات میں یعنی زمانہ محمد مصطفی ﷺے میں قرآن کریم اتارا گیا۔تو پھر کسی ایک مہینے کی بات بھی نہیں رہتی اور کسی ایک رات کی بات بھی نہیں رہتی وہ سارا دور ہی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا ایک عظیم دور بن جاتا ہے۔جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تفسیر پیش فرمائی تو بہت سے علماء نے آپ کے خلاف زبانیں دراز کیں ، بہت بے ہودہ تبصرے کئے کہ ساری امت تو سمجھتی ہے کہ ایک ہی رات مراد ہے اور آپ نے سارا زمانہ مراد لے لیا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں ان کو سمجھایا کہ تم کیوں قرآن کریم کے بطن کو محدود کرتے ہو۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایک رات بھی تھی یا اب بھی آتی ہے جس رات میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کا خاص نزول ہوتا ہے اس رات کی جستجو کا احادیث میں کثرت سے ذکر ملتا ہے۔فرمایا میں کب کہتا ہوں کہ کوئی ایسی رات نہیں آتی مگر قرآن کریم خود اس رات کی جو تفاصیل بیان فرما رہا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ دراصل زمانہ نبوی ہے اور اعلی درجہ کے معنی اس کے یہی ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک