خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد 15 109 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء ایک طبعی جوش سے ہم آگے بڑھے ہیں اور اس کی تکلیف کی بجائے جو محنت ہم کر رہے ہیں ہم اس سے لذت پارہے ہیں اگر چہ جسم کمزور ہے اور روح کی تازگی کا ساتھ نہیں دے سکتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے بھی کہا کہ روح جوش رکھتی ہے لیکن جسم کمزور ہے ویسی ہی کیفیت ہر انسان کو اپنے زندگی کے تجارب میں محسوس ہوتی ہے۔ایک پیارے کی خاطر جاگتا ہے اور ایک مصیبت کے طور پر فرض کے طور پر جاگتا ہے، ان دونوں میں فرق ہے اور وہ مزدور جس کو تھوڑی مزدوری ملتی ہے اس کی محنت اس کے لئے بہت ہی مشقت اور مصیبت لے کے آتی ہے۔وہ مزدور جس کو زیادہ مل جاتی ہے وہ زیادہ وقت چاہتا ہے اگر اس سے زیادہ محنت نہ لیں تو وہ شکوہ کرتا ہے۔اب آپ کو پاکستان یا ہندوستان میں شاذ ہی یہ احتجاج ملیں گے کہ ہمیں Overtime نہیں دے رہے مگر یہاں اگر فیکٹریاں overtim نہیں دیں گی تو خاص طور پر آزاد کشمیر کے جو آنے والے ہیں وہ تو بڑا شور مچاتے ہیں۔ان کا بدن زیادہ سخت جان ہے اور اس کو وہ پیسے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔تو کہتے ہیں یہاں Overtim نہیں دیا جار ہا بڑا ظلم ہو رہا ہے ہمارے اوپر اور اگر وا پس وہاں چلے جائیں اور تھوڑے پیسے دے کovertime لیں تو کہیں گOvertime لیا جارہا ہے بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ایک ہی چیز ہے صرف کیفیت اور رجحان بدلنے سے وہ مختلف اثرات پیدا کر دیتی ہے۔تو رمضان مبارک کو اس طرح بھی جانچیں۔کچھ تو اس طرح، دیکھیں کہ آپ نے جو کہ گزشتہ نیکیاں کی تھیں کیا رمضان کے مہینے میں ان میں ایک نئی زندگی پیدا ہوئی ؟ کیا آپ نے ان نیکیوں میں کچھ قدم آگے بڑھایا جو رمضان کے بغیر آپ کو توفیق نہیں ملی تھی ؟ اور پھر نیکیوں میں آپ نے پہلے سے بڑھ کر لذت محسوس کی کہ نہیں ؟ اگر لذت محسوس کی ہے تو لازماً آپ کو کچھ ملا ہے اور یہی وہ ملنا ہے جس کی طرف رمضان ہمیں متوجہ کر رہا ہے اور وہ خدا کا ملنا ہے۔تمام تر مقصد رمضان کا خدا کا ملنا ہے اور یہ لذتیں جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں یہ تمام لذتیں خواہ کسی نوعیت کی ہوں تب پیدا ہوتی ہیں جب وصل کا احساس پیدا ہو، جب قرب الہی کا احساس پیدا ہو اس کے بغیر کوئی لذت ،لذت بن ہی نہیں سکتی۔نماز میں بھی اگر مزہ آئے گا تو لازماً ان لمحات میں مزہ آئے گا جب آپ کو خدا کے قرب کا احساس ہوگا ورنہ یہ نماز بور ہی رہے گی۔روزوں کے درمیان بھوک اور پیاس میں بھی اگر کوئی مزہ آئے گا تو محض اس وقت جب آپ کی توجہ اللہ کی طرف ہوگی اور آپ دل سے محسوس کریں گے کہ