خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد 15 108 تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا نہ سود تھا تو ایسے لوگوں کی نماز سے جب آنکھ کھلتی ہے تو ہاتھ خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء میں کچھ نہیں ہوتا۔نہ زباں نہ سود لیکن ایک زیاں ضرور ہوتا ہے۔غالب کا شعر (دیوان غالب : 27) تو ایک انسانی حالت پر طاری ہونے والا ہے، اطلاق پانے والا ہے۔نماز کے معاملے میں ہاتھ تو کچھ نہیں آتا مگر وہ وقت ضائع ہو جاتا ہے جس میں ہاتھ آ سکتا تھا اور اس لحاظ سے زیاں کا پہلو غالب رہتا ہے۔پس یہ بھی دیکھیں کہ رمضان میں آپ کی وہ نیکیاں جن کی آپ کو پہلے توفیق ملا کرتی تھی کسی نئے جذبے سے جاگ اٹھی ہیں کہ نہیں۔ان نیکیوں کی آنکھیں کھلی ہیں کہ نہیں یا غفلت کی حالت میں سوئے سوئے ادا ہو رہی ہیں۔آنحضرت ﷺ کے متعلق قطعی طور پر ثابت ہے ایک حدیث نہیں اور بہت سی احادیث میں یہی مضمون ہے کہ رمضان کے دنوں میں تو آپ کی نیکیاں اس قدر جوش دکھاتی تھیں کہ جیسے ہوا آندھی میں تبدیل ہو جائے اس طرح آپ ہر نیکی میں آگے بڑھ جایا کرتے تھے۔تو یہ جو نیکیوں کا موازنہ ہے یہ بعض دفعہ دل کے طبعی جوش سے پیدا ہوتا ہے بعض دفعہ بالا رادہ کرنا پڑتا صلى الله ہے۔یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو تو اس بارے میں ارادے کے ساتھ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔محنت تو بہت کرنی پڑتی تھی کیونکہ جب خدا کی رضا کی خاطر انسان پورا زور لگا تا ہے تو کچھ نہ کچھ جسمانی محنت اور اس کی تھکاوٹ کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔مگر وہ محنت خود اپنے آپ کو سنبھال لیتی ہے کیونکہ ولولے اور محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اس لئے محنت تو ہے مگر اس طرح تھکا دینے والی محنت نہیں جیسے ایک آدمی ایسا کام کرے جس میں دل نہ ہو، اس کو بیگار کہتے ہیں۔مزدور کو بھی اگر پوری مزدوری دو بلکہ اس سے کچھ زیادہ دے دو تو سخت محنت کر کے بھی وہ اتنا نہیں تھکتا جتنا کسی مزدور کو پکڑ لیا جائے اور کہا جائے چلو محنت کرو ورنہ تمہیں ماریں گے۔وہ بے چارہ ہر قدم جواٹھاتا ہے وہ منوں بوجھل ہو جاتا ہے خواہ ہلکا کام ہی اس کے سپر د ہو۔تو محنت کے بھی مختلف مدارج ہیں، مختلف کیفیتیں ہیں ، ان کے تابع ہمیں اپنے آپ کو دیکھنے جانچنے کا بہت اچھا موقع ہے خصوص رمضان شریف میں۔رمضان میں ہم جتنا قدم نیکیوں میں آگے بڑھاتے ہیں اول تو جانچ سکتے ہیں کہ کیا آنحضرت ﷺ کی طرح