خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 107

خطبات طاہر جلد 15 107 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء تو وہی موسم والی بات ہر ایک پر اطلاق پاتی ہے۔آنحضرت ﷺ سارا سال نیکیوں میں بہت تیز رفتار تھے تو رمضان میں کیا اسی رفتار سے چلتے تھے یا اس میں ایک نئی شان پیدا ہو جاتی تھی ،نئی جان آجاتی تھی۔حدیثیں بتاتی ہیں کہ ان نیکیوں میں جو روز مرہ آپ کی عادت تھی ان میں ایک نئی جلاء الله پیدا ہو جاتی تھی ، ایک نیا جوش پیدا ہو جاتا تھا۔پہلے سے بڑھ کر تیزی سے آنحضرت ﷺ اپنی روزمرہ کی نیکیوں میں بڑھ جایا کرتے تھے۔اب اس حدیث نے ہمیں ایک بڑا وسیع مضمون سمجھا دیا اپنے موازنے کا مضمون، اپنے سال پر نظر ڈالیں ، اپنی نیکیوں پر نظر ڈالیں ہر انسان خواہ نیک ہو یا بد ہوا سے کچھ نہ کچھ نیکی کی توفیق تو مل ہی جاتی ہے یعنی بد بھی ہو تو مل جاتی ہے، نیک ہو تو اس کو بہر حال کچھ نہ کچھ تو فیق ملتی رہتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ رمضان میں وہ نیکیاں جو ہم نے سارا سال کی تھیں ان میں ایک نئی جلا پیدا ہوئی ہے۔کیا ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے جس طرح عبادت کیا کرتے تھے اس سے زیادہ بڑھ کر اس سے زیادہ توجہ سے عبادت کر رہے ہیں، جس طرح پہلے صدقہ دیا کرتے تھے اس سے زیادہ توجہ کے ساتھ اور دلی خواہش کو ملا کر صدقے دیتے ہیں محض بوجھ اتارنے کے لئے نہیں بلکہ محبت کے جذبے کے ساتھ ، جیسے محبت کے جذبے سے جب تحفے پیش کئے جاتے ہیں تو بعض دفعہ بڑے بڑے خوبصورت کاغذوں میں یا ڈبوں میں لپیٹ کر دئیے جاتے ہیں بعض دفعہ تو اتنے زیادہ خوبصورت کر دیئے جاتے ہیں کہ اندر کا تحفہ کم اور باہر کی سجاوٹ زیادہ لیکن اللہ کے حضور بھی کسی حد تک سجاوٹ تو ضروری ہے اور وہ سجاوٹ جو ہے وہ خدا تحفوں کی طرح قبول فرماتا ہے وہ اس کا جزا بنا دیتا ہے۔تو دیکھنا یہ ہے کہ ہماری قربانیوں میں کیا کوئی نئی حسن کی بات بھی پیدا ہوئی ؟ ہم نے انہیں سجانے کی کوشش کی؟ جو نمازیں پہلے پڑھتے تھے ان کو اگر ہم بے خیالی سے پڑھ جایا کرتے تھے اور خیال کو خدا تعالیٰ کی طرف مرکوز رکھنے پر محنت نہیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ چار رکعتیں پوری ہو گئیں یا تین رکعتیں پوری ہو گئیں تو بات ختم ہوگئی آؤوا پس اب دنیا کی طرف چلتے ہیں بلکہ بسا اوقات دنیا چھٹی رہتی تھی اور نماز کے دوران وہ پیچھا چھوڑتی ہی نہیں تھی۔پس محض ایک ظاہری بندھن تھا جس کے ٹوٹنے کے بعد کوئی بھی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ویسی ہی بات ہوتی ہے بعض دفعہ نماز پڑھنے والوں سے جس طرح غالب نے کہا ہے۔