خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 105

خطبات طاہر جلد 15 105 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء سب کو جنت کے اس دروازے سے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جو الریان کہلاتا ہے۔یہاں مراد یہ ہے کہ خدا کی خاطر، خدا کی رضا کی خاطر جب خواہش پوری کر سکتے تھے اور نہیں کی گئی، جب پیاس بجھا سکتے تھے اور نہیں بجھائی اس وقت تم جانتے ہو کہ دنیا میں روزے نے تمہیں سکھا دیا ہے کہ جب پیاس بجھاتے ہو تو دوہری لذت حاصل کرتے ہو کہ اپنے رب کی خاطر میں ایک امتحان سے کامیابی سے گزرگیا اور گھونٹ گھونٹ پانی اپنے اندر دہری لذتیں رکھتا ہے کہ اب خدا کی اجازت سے میں نے اپنی پیاس کو بجھایا اپنی دوسری خواہشات کو پورا کیا۔تو یہ جو جنت کا ایک زائد مضمون ہم یہاں اپنے لئے پیدا کر دیتے ہیں یہی وہ دروازہ بنانا ہے۔یعنی ہم اس دنیا میں خود اپنے اس دروازے کو تعمیر کر رہے ہیں جو آخری دنیا میں ہمارے سامنے پیش ہو گا اور جس نے دروازہ بنایا ہے جس کا وہ مالک وہی اس دروازے سے گزرے گا اور کوئی نہیں گزرسکتا۔پس یہ مراد نہیں کہ ایک گیٹ اکٹھا ایک جگہ کھڑا ہوا ہے اور کروڑہا آدمی اس کے سامنے Que ( لائن ) لگا کے کھڑے ہیں کہ ہمیں اجازت ہو تو ہم بھی اس میں سے گزریں کیونکہ جنت میں تو دوسرے دروازوں سے بھی گزرے ہیں تو کیا بار بار نکلنا پڑے گا ؟ پھر اگر یہ منظر ہو تو کوئی روزے کے دروازے سے گیا ہے، کوئی نماز کے دروازے سے گیا ہے، کوئی جہاد کے دروازے سے گیا ہے اور جو روزے دار جہاد کے دروازے سے گیا ہے وہ کہے گا روزے کا مزہ تو میں نے چکھا کوئی نہیں اب چلو پھر دوبارہ باہر نکلتے ہیں اور روزے والے دروازے سے داخل ہوتے ہیں۔یہ سوچ ان لوگوں کی ہے جو د نیا داری کے مضامین کو دین پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دین کے اپنے محاورے ہیں اور دین کی الگ کیفیات ہیں اور ایسا ممکن ہے کہ بیک وقت ایک انسان مختلف لذتیں حاصل کر رہا ہو گویا دروازے بظاہر الگ الگ ہیں لیکن آپ ان سب دروازوں سے بیک وقت داخل ہورہے ہیں۔مثلاً ایک مجاہد ہے اس کو جہاد کی ایک لذت حاصل ہوئی جو اس دنیا میں ہوئی اور روزہ دار ہے جو مجاہد تھا روزے دار بن گیا اس کو روزے کی ایک لذت حاصل ہوئی۔یہ دونوں چیزیں ایک دوہری لذت کی صورت میں اس دنیا میں پیدا ہو سکتی ہیں اور یہی لذتیں جو ایک کے اوپر دوسری منازل بنا رہی ہوں۔یہ جب جنت میں متمثل ہوں گی تو بیک وقت ایک ہی گیٹ کے ساتھ اور گیٹ اس کے اوپر ایک اور گیٹ گویا کہ گیٹ کے اوپر ایک گیٹ چڑھا ہوا