خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 1007
خطبات طاہر جلد 15 1007 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء Albanian نسل کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔پس جب یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے، جب ان کی توفیق بڑھے گی تو یہ بعید نہیں کہ آئندہ چند سالوں میں بجائے اس کے کہ باہر سے مددلیس خود باہر کے دوسرے علاقوں کے لئے مددگار بن جائیں۔تو ان امیدوں کے ساتھ ، ان دعاؤں کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ان توقعات کے ساتھ جو ہمیشہ اپنے دائروں سے بڑھ کر پوری ہوتی ہیں۔توقعات کے جو دائرے ہمارے ہوتے ہیں ان میں ہمیشہ ان سے بڑھ کر پوری ہوتی ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانات پر پورا تو کل کرتے ہوئے اس نئے سال میں داخل ہوتے ہیں جو وقف جدید کا بیالیسواں سال ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جیسا کہ شکر کا حق ہے شکر کی طرف بھی توجہ آپ کریں گے کیونکہ جب فضل بڑھیں اور شکر پیچھے رہ جائے تو یہ ایک بہت ہی تکلیف دہ توازن کا بگڑنا ہے۔شکر ساتھ ساتھ بڑھنا چاہئے اور اس احساس کو دل پر قبضہ کر لینا چاہئے کہ ایک ایسے حسن سے واسطہ ہے جس کا جتنا بھی شکر کریں اتنا زیادہ احسان ہو جاتا ہے کہ سنبھالا نہیں جاتا۔اس لئے ہمیشہ ہم پیچھے رہتے ہیں کبھی شکر میں آگے نہیں بڑھ سکتے اور یہ احساس ہی ہے جو شکر کی طاقت بڑھاتا ہے، ذکر کی طاقت بڑھاتا ہے خدا کی یاد میں پیار پیدا کر دیتا ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی اپنے فضلوں کے ساتھ جماعت کو ہمیشہ یہی توفیق بخشے گا کہ وہ جیسا کہ شکر کا حق ہے شکر کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی یادوں سے دل کو نور عطا کرتے ہوئے اس میدان میں ہمیشہ آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ