خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 1006
خطبات طاہر جلد 15 1006 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء کہ میں نے آپ سے پہلے بھی عرض کیا تھا میں نے یہ نیت کی ہے اللہ تو یہ تو فیق عطا فرما دیتا ہے کہ جو بھی تحریک کروں اس کا سواں حصہ میں خود دوں اور یہ بتانے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں بتاؤں کہ میں یہ کر رہا ہوں۔یہ مقصد ہے کہ بعض لوگ بوجھ سمجھتے ہیں کہتے ہیں کہ نئی نئی تحریکیں پیش کی جارہی ہیں ان کے دل کی تسلی کے لئے ان کو بتا رہا ہوں کہ میں شامل ہوتا ہوں تو تحریک کرتا ہوں ورنہ میں یہ سمجھتا کہ مجھے حق نہیں تھا۔تو اس پہلو سے میرا تجربہ ہے کہ جب بھی زیادہ تحریکیں کی ہیں خدا نے مالی وسعتیں خود بخو د عطا کر دی ہیں تو اس لئے اس معاملے میں مجھے ذرا بھی وہم نہیں کہ میں کوئی ایسا بوجھ ڈال رہا ہوں جس کو جماعت اٹھا نہیں سکتی۔یہ جانتا ہوں کہ جب بھی کوئی مزید تحریک کی جاتی ہے اللہ میری وسعت کو بھی بڑھاتا ہے، آپ کی وسعت کو بھی بڑھاتا ہے۔تو پھر اگر ضرورت حلقہ ہے اور جائز ہے تو تحریک میں کوئی تر در نہیں ہونا چاہئے۔مگر چونکہ عام چندوں کی ذمہ داریاں بہت جماعت نے اٹھا رکھی ہیں اس لئے اس تحریک کو بھی بعض دوسری تحریکات کی طرح اس طرح پیش کر رہا ہوں کہ وہ سب احمدی جو عام چندوں میں حسب توفیق حصہ لے رہے ہیں اور ان کے لئے زیادہ بوجھ اٹھا نا ممکن نہیں ہے وہ محض تبرک کی خاطر کچھ نہ کچھ دے کر اس میں شامل ہو جائیں اور وہ صاحب حیثیت جن کو خدا تعالیٰ نے بڑی توفیق عطا فرمائی ہے وہ اپنی۔توفیق کے مطابق خود فیصلہ کریں اور وہ زیادہ تر اس کا عمومی بوجھ اٹھانے کے لئے آگے آئیں۔جیسا کہ میرا سابقہ تجربہ ہے یہ انشاء اللہ دیکھتے دیکھتے وعدے وصول ہو جائیں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ پہلے سال دو تہائی اور دوسرے سال اس کا ایک تہائی وصولی کی صورت میں ہمیں مل جانا چاہئے کیونکہ فوری ضرورت جو اس سال کی ہے وہ ایک ملین کی تو لازماً ہے اور بعد کی اگلے سال کی ضرورت چندوں سے بچت کے علاوہ پانچ لاکھ کے قریب ہوگی اور جس رفتار سے چندے بڑھ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ آگے وہ ضرورتیں چندوں ہی سے پوری ہوتی رہیں گی کسی نئی تحریک کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور خاص طور پر اس لئے بھی مجھے امید ہے کہ یورپ میں جو نئے احمدی ہونے والے ہیں ان میں خصوصاً Albanian نسل کے لوگوں میں مالی قربانی کی روح پائی جاتی ہے اور بعض تو ایسے ہیں جو بڑے زور اور اصرار کے ساتھ پوچھ پوچھ کے کہ باقی کیا دیتے ہیں ہم سے وہ سب کچھ لو خود دینے کے لئے آگے آتے ہیں۔تو بہت ماشاء اللہ حیرت انگیز قربانی کا جذبہ ہے جو