خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 994
خطبات طاہر جلد 15 994 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ان کے لئے تو جہنم کے عذاب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پس مالی قربانی کے جو مرتے ہیں ان کو سمجھے بغیر حقیقت میں مالی قربانی کا جذ بہ صحیح طریق پر بیدار ہو ہی نہیں سکتا اور ان مراتب کو سمجھنے کے نتیجہ میں مالی قربانی میں جو احتیاطیں ضروری ہیں ان سے بھی انسان واقف ہو جاتا ہے کیونکہ بسا اوقات مالی قربانی دیکھا دیکھی سے بھی ہو جاتی ہے۔ مالی قربانی میں مسابقت کا جائزہ شوق بھی شامل ہو جاتا ہے۔ وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اگر نظر ان بلند مقامات کی طرف اور مراتب کی طرف ہو جن کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے تو مالی قربانی میں ایک نئی جلاء پیدا ہو جائے گی اور مالی قربانی ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ پس اس پہلو سے وقف جدید کے ذکر میں جب میں بعض مثالیں بھی دوں گا ، بعض عظیم الشان قربانیوں کا ذکر بھی کروں گا تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ اپنی قربانیوں کو محض اس غرض سے بڑھائیں کہ آپ کا ذکر چلے۔ اس غرض سے بڑھا ئیں کہ آپ میں مسابقت کی وہ روح پیدا ہو جو آپ کے لئے مطمع نظر بنا دی گئی ہے، جو آپ کا ماٹو قرار دے دیا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا بِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: 11) تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ہو اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرة: 149) یہ جو آیت تھی یہ میرے ذہن میں تھی وہ دوسری آیت کا بھی اس مضمون سے تعلق ہے مگر میر - میرے ذہن میں جو آیت تھی جو میں ڈھونڈ رہا تھا وہ یہ دوسری آیت ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ہر ایک کے لئے ایک نصیب العین ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اس کے لئے وہ پابند ہو جاتا ہے اس کے لئے وہ اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے، وہ قبلہ بن جاتا ہے جس کی طرف منہ پھیر لیتا ہے ۔ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ تمہارا نصب العین جن کی طرف تم نے اپنے چہرے پھیرنے ہیں، اپنی تو جہات کو مرکوز کرنا ہے وہ ہے ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھو۔ پس اس جذبے کے ساتھ قرآن کریم نے ہمارا مقصد ، ہمارا نصب العین ہی نیکیوں میں آگے بڑھنا قرار دے دیا ہے۔ اگر ایک انسان اپنے بھائی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ہرگز ریا کاری نہیں کہا جا سکتا ، اسے ہرگز معمولی بات سمجھ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اس اعلیٰ نیت کے باوجود اس سے بھی بلند تر نیتیں ہیں اور ان میں سے اول یہ ہے کہ اللہ کا تصور ذہن پر حاوی ہو اور کوئی بھی چندہ